About the Writer — Sadia Rajpoot
Sadia Rajpoot is an emerging Urdu fiction writer whose literary debut, Ishq Aatish, introduced her to readers through an emotionally intense story of love, sacrifice, regret, and human relationships. The novel was originally published in episodes in Kiran Digest before being brought out in book form.
Her writing in Ishq Aatish reflects an interest in the emotional and psychological dimensions of human relationships. Rather than focusing solely on romance, she weaves themes of family, duty, remorse, sacrifice, and the consequences of choices into the narrative. Her storytelling combines emotional depth with reflections on life and society, giving her debut a distinctive character.
Although detailed biographical information about Sadia Rajpoot is limited in publicly available sources, her debut novel has established a noticeable presence among Urdu fiction readers. Ishq Aatish continues to be recognized for its powerful emotional narrative and exploration of love and sacrifice.
Theme of Ishtiaq Aatish
Ishq Aatish explores the profound and often painful dimensions of love, sacrifice, regret, and the consequences of decisions made in the past. Set against the backdrop of the 1980s, the novel portrays how love can transcend time, yet unresolved grief, ego, family honor, and misunderstandings can leave lasting scars across generations.
At its heart, the story presents Ishq-e-Majazi (worldly love) as an intense emotion that can transform a person’s entire existence. Alongside romance, the novel touches upon family relationships, the bond between parents and children, remorse, forgiveness, friendship, and the psychological struggles that can shape a person’s life.
The novel beautifully conveys that some mistakes cannot simply be erased through forgiveness; they leave behind a responsibility to acknowledge one’s wrongs and seek redemption. Through its emotionally charged characters and layered past-and-present narrative, Ishq Aatish shows that true love demands sacrifice, patience, and the courage to face painful truths.
Overall, the central theme revolves around love that becomes an overwhelming force—one that does not merely burn a person to ashes, but transforms and consumes them from within.
Novel Review By Rabia Kashif
عشق آتش از سعدیہ راجپوت
کرن ڈائجسٹ نومبر 2010 تا مئی 2011
صفحات: 400
زندگی کا فلسفہ اور چند معاشرتی حقائق کو بیان کرتا یہ ناول سعدیہ راجپوت کی پہلی تصنیف ہے۔۔ کرن ڈائجسٹ میں یہ ناول سات ماہ تک قسط وار شعائع ہوا اور القریش پبلیشرز نے اسے کتابی شکل میں ہم تک پہنچایا۔۔
سلیس اردو اور دلکش اسلوب بیان کے ساتھ “عشق مجازی” کے موضوع پہ لکھا ایک منفرد ناول ہے جس کے سحر میں مبتلا ہونے سے قاری خود کو روک نہیں پاتا۔۔۔
کہتے ہیں کہ عشقِ مجازی ہو یا عشقِ حقیقی دونوں کی حد وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اپنی ذات پر اختیار ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ اس جذبہ کی سچائی وجود میں رونما ہونے والی چند تبدیلیوں سے مشروط ہے۔ ساکن وجود میں اضطراب لازم ہے اور مضطرب وجود میں کمال مہارت سے توازن رکھنا کہ گرد و پیش میں بگاڑ پیدا نہ ہو، یہی اصل عشق ہے۔۔۔
80 کی دہائی کے پس منظر سے کشید کی گئی ملیحہ فاروقی اور وجدان مصطفی کے عشق کی یہ ایک ایسی ہی دلسوز افسانوی داستان ہے، جو اپنے پڑھنے والوں کے دل بوجھل اور آنکھیں نم کر دیتی ہے۔۔۔
کہانی و پلاٹ:
مختصر خلاصہ کے مطابق قصر فاروقی کی مکین تانیہ، فائزہ کی یونیورسٹی فیلو ہے اور فائزہ کے شعبہ پولیس سے وابستہ کزن “شایان مصطفی” سے محبت کرتی ہے۔ شایان بھی اسے پسند کرتا ہے مگر ایک پارٹی کے دوران اسکے علم میں یہ بات آتی ہے کہ تانیہ، نورالہدی کی بیٹی ہے۔ وہ اپنی ماں “ملیحہ” کی موت کا ذمہ دار قصر فاروقی کے مکینوں کو سمجھتا ہے اور اسی سوچ کی بنیاد پر اپنی محبت سے دستبردار ہونے کا سوچنے لگتا ہے۔۔
تانیہ اس عجیب توجیہہ پہ حیران و پریشان ہو کر سچائی کی کھوج میں نکلتی ہے تو اسکے سامنے محبت، عشق اور انا کی دیواروں میں مقید ماضی کے چند اہم کرداروں (وجدان مصطفی، نورالہدی، ملیحہ اور اظہر فاروقی) کی کہانی عیاں ہونے لگتی ہے۔۔۔۔۔
ماضی کے پس پردہ مرکزی کہانی میں نورالہدی اور ملیحہ فاروقی تایا زاد ہیں۔ نامحسوس انداز میں اسکی خوشیوں کا خیال رکھنے والا نورالہدی، زندگی کے ہر فیصلہ میں ملیحہ کی خوشی چاہتا ہے۔۔۔
وجدان جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے، وہ رنگوں اور زندگی سے محبت کرنے والی ملیحہ فاروقی کو لائبریری میں دیکھتا ہے اور اسیر محبت ہو جاتا ہے۔۔
چند ملاقاتوں کے بعد ملیحہ بھی وجدان سے محبت کرنے لگتی ہے۔ ملیحہ کے والد کرنل اظہر فاروقی قطعی انداز اپناتے ہوئے اسکی خواہش رد کر دیتے ہیں اور اسکا نکاح نورالہدی سے طے کر دیتے ہیں۔۔
قریبی رشتوں سے وفا نبھانے اور محبت کرنے والی ملیحہ کا دل یہ صدمہ سہہ نہیں پاتا اور عین نکاح کے روز اسکا انتقال ہو جاتا ہے۔۔
وجدان کا تارک الدنیا ہونا، شیزوفینا کی مخصوص کیفیت کا طاری ہونا، شایان کا اسکی زندگی میں آنا، آفاق جیسے دوست کا ساتھ اور نئے سرے سے زندگی کا آغاز، چند ایسے اہم ابواب ہیں، جو اس ناول میں قارئین کی دلچسپی بڑھائے رکھتے ہیں۔۔
علاوہ ازیں یہ ناول اولاد اور باپ کے تعلقات، پچھتاووں میں گھیرے چند کردار اور شیزوفینا جیسے اہم موضوعات کا بھی قابل تحسین انداز میں احاطہ کئے ہوئے ہے۔
کردار نگاری:۔
ہر باشعور انسان کی زندگی میں چند کاش اور لیکن ہوتے ہیں۔ معافی کا حصول اندر کے احساس ندامت کو کم تو کر سکتا ہے مگر ان کوتاہیوں کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا، ایسے میں انسان اپنے جذبات اور احساسات کی نرمی کے ذریعے اسکا کفارہ ادا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ پچھتاووں میں گھیرا ملیحہ فاروقی کے والد اور تانیہ کے دادا کرنل اظہر فاروقی کا کردار بھی ایک ایسا ہی کردار لگا۔۔
آفاق کا کردار وجدان کی زندگی میں خصوصی اہمیت کا حامل رہا۔۔ ایک بہت محبت کرنے والا پرخلوص دوست۔۔ وجدان اور اس کی کمیسٹری ناول میں اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔۔
ملیحہ سے بےحد محبت کرنے والے شایان کے کردار سے متعلق ناول میں تجسس ہے، چند معاشرتی حقائق کی نشاندہی کے لئے اس کردار کو تخلیق کیا گیا مگر اس کردار کے تخلیقی عوامل نے مجھے قدرے الجھن میں مبتلا کئے رکھا۔۔
مکالمہ نگاری اور منظر کشی:
عشق” کے پس منظر میں لکھی اس کہانی میں لفظ “عشق” کی بہت دلفریب اور گہرے انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔۔۔ مختلف کرداروں کے ذریعے ماضی اور حال کا ایک تقابلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔۔۔
ملیحہ کیلئے نورالہدی کے احساسات، جذبوں کی صورت جھلکتی وجدان کی عقیدت اور اسکے انداز تخاطب کی منظر کشی بیحد حسین لگی۔۔۔
مختصر و جامع مکالمے اور بہت سے اقتباس پہ مصنفہ کے قلم کی پختگی اور مہارت دکھائی دی۔۔
“عشق اول و آخر درد ہے، عشق حاصل نہیں۔ لاحاصل کا جنون ہے، خواہش ناتمام ہے۔ عشق کا جنم ہی جدائی کی کوکھ سے ہوتا ہے اور بھلا جدائی راحت دے سکتی ہے، جدائی درد دیتی ہے اور جب یہ درد لہو بن کر جسم میں بہتا ہے تو پھر کوئی امید باقی نہیں رہتی، عشق وہ آگ ہے جو جلائے تو راکھ نہیں کرتا، فنا کر دیتا ہے۔”
کچھ مناظر میں ماضی اور حال کا سفر طے کرتے اِس ناول کی رفتار قدرے تیز محسوس ہوئی مگر خوبصورت اندازبیان اور پلاٹ پر مصنفہ کی مکمل گرفت نے اس ناول کی خوبصورتی اور اس میں چھپے پیغام کو اثرانداز ہونے نہیں دیا۔۔
خوبصورت اختتام کے ساتھ بیسویں صدی کے عشق کی ایک منفرد کہانی ہے، “وہ عشق، جو آتش ہے، انسان کو راکھ نہیں کرتا بلکہ فنا کر دیتا ہے۔”
#review_by_rabeya
My Recommendation
Ishq Aatish is a deeply emotional and thought-provoking novel that beautifully explores love, sacrifice, regret, family bonds, and the consequences of past decisions. Its mature writing style, strong characterisation, and blend of past and present make it an engaging read.
I would recommend this novel to readers who enjoy intense emotional stories, meaningful relationships, tragic love, psychological depth, and powerful life lessons. It is especially worth reading for those who appreciate stories where love is portrayed as more than romance—it becomes an experience that changes the characters forever.
