Novel Lines
ہاں جی کیا مسئلہ ہے۔شہر کے آوارہ کتے آپ کے پیچھے لگ گئے ہیں یا پولیس پیچھے لگی ہوئی ہے جو یوں دروازہ پیٹے جارہے ہو توڑنا یے کیا۔”
“معاف کیجیے گا میرا دھیان نہیں رہا۔”
“کس بات کا۔”ربیعہ نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔
“میں سمجھا آپ لوگ سورہے ہونگے۔”
“کیوں ایسا کیوں سوچا آپ نے؟اور سوئے ہوئے کو جگانے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔چلے تھے ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے۔خیر ہو کون تم۔اپنے آنے کا اور دروازہ بجانے کا سبب بیان کرو۔”
“میں ڈاکٹر ارسلان احمد ہوں۔”اس نے اپنا تعارف کروایا۔
“لیکن میں مریض نہیں ہوں اور نا ہی اس گھر میں کوئی اور مریض ہے۔”ربیعہ نے فوراً جواب دیا۔
“میں کرایے دار ہوں۔”
“کس کے۔”ربیعہ نے سوال کیا۔
“یہ نصیر اللہ مرحوم کا گھر ہے۔”
“دروازے کے دائیں جانب نیم پلیٹ پہ کیا نام لکھا ہے۔”ربیعہ نے تیزی سے پوچھا تو وہ دائیں جانب نیم پلیٹ پہ نگاہ ڈال کر بولا۔
“نصیر اللہ لکھا ہے جی۔”
“تو پہلے پڑھ لیا ہوتا نا۔”
“پڑھ کر ہی دروازہ بجایا تھا۔”وہ بولا۔
“نصیر مرحوم کو جگانے کا ارادہ تھا شاید تبھی دھڑا دھڑ دروازہ بجایا جارہا تھا۔”
Novel Description
ناول: قسم سے
مصنفہ: سباس گل ✨
اشاعت: حنا ڈائجسٹ جولائی 2015
Emergency Nikah Based ❤️
ہیروئن ربیعہ کے والد کا انتقال ہو چکا ہوتا ہے، اور وہ اپنی ماں کے ساتھ اکیلی زندگی گزار رہی ہوتی ہے 😔
گھر کے حالات سنبھالنے کے لیے ربیعہ جاب کرتی ہے 💼 اور مالی مدد کے لیے گھر کا اوپر والا حصہ کرائے پر دینے کا فیصلہ کرتی ہے 🏠
اسی دوران ہیرو ارسلان، جو کہ ایک ڈاکٹر ہوتا ہے 👨⚕️، اپنی نوکری کے سلسلے میں دوسرے شہر شفٹ ہوتا ہے اور رہائش کی تلاش میں ربیعہ کے گھر آ پہنچتا ہے۔ ربیعہ کی والدہ اسے کمرہ دے دیتی ہیں 🙂
لیکن جلد ہی محلے والوں کی نظریں اور باتیں شروع ہو جاتی ہیں 😒
لوگ طرح طرح کے الزامات لگانے لگتے ہیں کہ ایک جوان لڑکے کو گھر میں رکھنا مناسب نہیں 😢
ان حالات اور بدنامی کے ڈر سے 💔
ارسلان ایک اہم فیصلہ لیتا ہے اور ربیعہ سے فوری نکاح کر لیتا ہے 💍
نکاح کے بعد دونوں کی زندگی کیسے بدلتی ہے؟ 🤍
کیا یہ رشتہ مجبوری سے محبت تک پہنچ پاتا ہے؟ 💞
جاننے کے لیے یہ خوبصورت کہانی ضرور پڑھیں ✨
Happy Ending 💖