Dua Ho Gya Wo Shakhs By Iffat Sehar Tahir.

Novel Lines

اتنے کام نہ کیا کر۔اتنی نازک ملوک سی تو ہے تو مجھے تو ڈر ہے کہ تو کام کرکرکے ہی ختم نہ ہوجائے۔”
وہ مذاق کررہا تھا۔ساتھ ہی لہجے میں جذبوں کی تپش بھی تھی بلو نے گھور کر اسے دیکھا۔
“جس دن تو نوکرانی رکھوادے گا اس دن میں کچھ نہیں کروں گی۔”
“اک باری تو میرے گھر آ تو پھر دیکھنا پھولوں کے بسترے پہ رکھوں گا تجھے۔”اس کے لہجے میں محبت کی شدت رچی تھی۔مگر بلو پہ ایسی باتیں جھنجھلاہٹ اور بےزاری ہی طاری کرتی تھی۔
“چل میرے ساتھ فضول بک بک نہ کر۔ابے کو بتادیا تو تیرا سارا عشق جھاڑدے گا وہ۔”
وہ تیزی سے ہاتھ چلارہی تھی۔شیرے کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔پانی کی چھینٹوں سے بھگتی تنے تنے نقوش لیے وہ واقعی سوہنی لگ رہی تھی۔غصے میں اس کی آنکھیں جیسے چنگاڑیاں اڑاتی لگتی تھیں۔
“نہ نہ۔بھلا ایسی باتہں کڑیاں تھوڑی اپنے ماں باپ سے کرتی ہیں۔میں خود گل کروں گا۔”وہ بہت شریر انداز میں بےساختہ بولا تو وہ برتن پرات میں رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“درفٹے منہ۔۔۔”وہ پیر پٹخ کر پلٹی تو شیرے نے سرعت سے اس کی چوٹی کو جکڑا تھا۔وہ جھٹکے سے رک گئی۔برتنوں سے بھری پرات گرتے گرتے بچی تھی۔
“چھوڑ میری چوٹی لفنگا کہی کا۔”
وہ غصے سے بولی اور پھر اس پر اثر نہ ہوتا دیکھ کر اس نے اماں کو زور سے آواز دی۔نتیجہ حسب توقع تھا۔اس نے فوراً چٹیا چھوڑدی تھی۔
“ایسی حرکتیں اپنی کسی لگتی سے کرنا۔سمجھے۔”وہ فوں فوں کرتی برآمدے میں چلی گئی۔

Novel Description


📖 ناول: دعا ہو گیا وہ شخص
✍️ مصنفہ: عفت سحر طاہر
🗞️ اشاعت: آنچل ڈائجسٹ

یہ ایک دیہاتی پس منظر میں لکھی گئی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی کہانی ہے 🥀۔

👩 ہیروئن بِلو اور ہیرو شیرا آپس میں کزن ہیں اور گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہیروئن کی والدہ چاہتی ہیں کہ اس کی شادی شیرا سے ہو جائے، لیکن بلو اسے پسند نہیں کرتی، جبکہ شیرا دل سے اسے چاہتا ہے 🥰۔

🌸 شہر سے آنے والا لڑکا عثمان بلو کی دلچسپی حاصل کر لیتا ہے، لیکن اس کا کردار اچھا نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال کہانی میں کشمکش اور جذباتی موڑ پیدا کرتی ہے 💔۔

✨ آخرکار سچائی سامنے آتی ہے اور کہانی خوشگوار انجام کے ساتھ مکمل ہوتی ہے ♥️♥️۔

Download link

DUA HOGYA WO SHAKHS BY IFFAT SEHAR TAHIR

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *