Ehsaas Kay Dareechy By Sana Zafar.

Novel Lines


” مس تنوینہ میں آپ کا ملازم نہیں ہوں جو بیٹھا آپ کا انتظار کرتار ہوں ” اس کا سخت لہجہ غصے سے بھر پور تھا۔
سر میں یہ ۔۔ وہ ۔۔ فائل “۔ وہ لڑکھڑا گئی۔
“شٹ اپ”۔ اس نے کہا اور ہاتھ میں پکڑا کاغذ اس کی طرف اچھال دیا۔
” یہ لیٹر آپ نے ٹائپ کیا ہے ؟”
نہیں سر۔ تانیہ نے کیا ہے “۔ وہ سمجھتے ہوئے انداز میں بولی۔ ” لے جائیں اسے اور اچھی طرح چیک کر کے لائیں میرے پاس “۔ سریہ فائل؟” اس نے سجے ہوئے انداز میں پوچھا۔ میرے سر میں مارو اسے “۔ وہ چپ کھڑی رہی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ چلی جائے یا فائل کھول کے اس کے سامنے رکھ دے۔

✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧✦
“آپ نے یہاں آنے کی زحمت کیوں کی مس تنوینہ ؟” انتہائی رکھائی سے کہا تو وہ جواب کے لیے لفظ ڈھونڈنے لگی لیکن وہ پھر بول اٹھا۔
“آئی ایم سوری نہ تو اب آپ کے لیے کوئی سیٹ خالی ہے اور نہ ہی اس کمپنی کو اب آپ کی ضرورت ہے۔”
“آئی ایم سوری سر میری مجبوری تھی کہ آپ کو اطلاع نہ کر سکی ۔”
“مجبوری عیاشیوں اور آوارہ گردیوں کو آپ مجبوری کا نام دیتی ہیں ۔”
وہ جو اس وقت سے اپنا غصہ کنٹرول کیے بیٹھا تھا ایکدم بے قابو ہو گیا۔
“آئی ایم سوری میں تنوینہ ہماری کمپنی کو با کردار ورکرز کی ضرورت ہے۔ آپ جیسی مردوں کے ساتھ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے ہوٹلنگ کرنے اور شاپنگ کرنے والی لڑکیوں کی نہیں ۔”
اس کے لہجے میں حقارت اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اس کی زبان سے لفظ نہیں شعلے نکل رہے تھے جنھوں نے اسے سرتا پاؤں جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ کئی لمحوں تک تو حیرت و صدمے سے اس کی آواز گنگ ہوئی وہ حیرت و بے یقینی ہے اس کو تکے گئی۔

کچھ دیر بعد ہوش و حواس کی دنیا میں آئی اور سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی۔ ذلت و توہین کے احساس اور غم و غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور جسم کا سارا خون چہرے پر جمع ہو گیا۔
“مسٹر ارسل منصور۔” وہ بولی تو اس کا لہجہ پھنکارتا ہوا تھا۔
“میں نے آج تک آپ کی ہر زیادتی کو برداشت کیا، ہر ذلت کو سہا اپنی ہر تذلیل پر خاموش رہی، لیکن میں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی میرے کردار پر کیچڑ اچھالے۔ میں اپنی کردارکشی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی ۔ افسوس صد افسوس مسٹر ارسل مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی گندی اور گھٹیا سوچ کے مالک ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کی ذہنیت اتنی پست ہے۔ رہی بات ملازمت کی آپ جیسے انسان کے ساتھ اب میں دو منٹ بھی رہنا گوارا نہیں کر سکتی ۔ آپ کا مجھ پر یہی بہت احسان عظیم ہے کہ آپ نے اتنا عرصہ مجھے برداشت کیا لیکن افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ میں نے آپ کو سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بہت بڑی۔”

اس نے انتہائی دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ایسے دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سے مڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ اور اپنے کمرے سے اپنا بیگ اور چادر اٹھائی اور چلی گئی۔۔۔۔

Download link

EHSAAS KAY DAREECHY BY SANA ZAFAR

Novel Description

ناول: احساس کے دریچے
مصنفہ: ثناء ظفر

Hero Boss Based | Rude Hero | Strong Heroin | Rich Hero Romantic Story ❤️ 💼❤️
۔ کہانی ایک مغرور، سرد مزاج اور بااختیار بزنس مین کے گرد گھومتی ہے جو اپنے دفتر میں ہر چیز کو اپنے اصولوں کے مطابق چلانے کا عادی ہے۔ 😌🔥
جب ایک باہمت، خوددار اور مضبوط ارادوں والی لڑکی اس کی کمپنی میں ملازمت اختیار کرتی ہے تو دونوں کے درمیان شروع ہونے والی تکرار رفتہ رفتہ جذباتی کشمکش میں بدل جاتی ہے۔ وہ ہر بات پر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، انا اور خودداری ان کے درمیان دیوار بن جاتی ہے، مگر دل کے دریچے آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں۔ 💔➡️💖
غلط فہمیاں، تلخ جملے اور روزمرہ کی نوک جھونک اس رشتے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے، لیکن انہی لمحوں میں ایک ان کہی کشش بھی جنم لیتی ہے جسے دونوں تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ طاقت اور جذبات کی اس کشمکش میں محبت کب اپنی جگہ بنا لیتی ہے، یہی اس کہانی کا اصل حسن ہے۔ 🌹✨
“احساس کے دریچے” ایک ایسی آفس رومانوی داستان ہے جہاں غرور اور محبت آمنے سامنے آتے ہیں، اور آخرکار دل کی آواز انا پر غالب آ جاتی ہے۔ 💞📖

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *