Novel Lines
یہ کیا کر رہی ہو؟
جاذب ریان کمرے میں آیا تو وہ بیگ میں اپنا ضروری سامان رکھ رہی تھی، اس کے اچانک
بولنے یہ وہ ایک دم سے ڈرگئی۔
“کہیں جارہی ہو؟“
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا سوٹ کیس بیڈ پر رکھے مسفرہ اپنی چیزیں پیک کر رہی تھی۔
“جی میں کل گھر چلی جاؤں گی۔”
“کتنے دنوں کے لیے۔”
وہ مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھا۔
“ہمیشہ کے لیے۔ “
ہینگر سے سوٹ نکال کر بیگ میں رکھتے ہوئے اس نے پہلی بار جاذب ریان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے جواب دیا،
“ہمیشہ کے لیے۔”
جاذب ریان نے دہرایا۔
“جی۔”
وہ بمشکل کہہ کر رخ پھیر گئی۔
“یعنی تم اس گھر کو چھوڑ کر جانے کی بات کر رہی ہو۔“
وہ جیسے اپنا واہمہ دور کرنا چاہ رہا تھا۔
“جی میں جاؤں گی تو ہی آپ ہنزہ آپی سے شادی
کر سکیں گے۔”
وہ بدقت بولی۔
“ہاں یہ تو ہے کافی عقل مند ہو تم اگر جاتا ہے تو کل کیوں ابھی کیوں نہیں، پرانے تعلق کو پرانے سال میں ہی الوداع کر دیں تو زیادہ اچھا ہے نا، نیا سال نئے ہم سفر کے ساتھ زیادہ سحر انگیز ہوگا چلو میں تمہیں ابھی چچا جان کے گھر چھوڑ دوں۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا مسفرہ کو اس سے ذرا بھی خوش فہمی نہیں تھی لیکن وہ یوں خوشی کا اظہار کرے گا یہ بھی گمان نہیں تھا تب ہی دل چھنا کے سے ٹوٹا تھا۔
“آؤ چلو….. شاباش میں تمہیں ابھی اس وقت چھوڑ آ ؤں۔”
جاذب ریان اس کا بازو پکڑے اسے باہر لے جانے لگا مسفرہ اس سلوک پر جیسے اپنی نظروں میں ہی گر گئی تھی۔
Download link
MEI TUJH SE PYAR NAHI KARTA BY REHANA AFTAB