Novel Lines
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” اس کے فون آن کرتے ہی وائس میسج آیا۔
“یہ آسیب ایک بجے تک بیدار ہے۔۔ “
“جی پلیز ” جواب بھی وائس میسیج میں دیا گیا ۔ “مجھے اس طرح بات نہیں کرنی۔” لہجہ ایسا تھا کہ اسے چبانا چاہتی ہو اگر روبرو بیٹھ کے بات کرنی ہے تو بڑے پورشن میں آسکتی ہو۔”
“مجھے وہاں آنے جانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔” کیا اکڑ تھی وہ لب بھینچ کے رہ گیا۔
” تو ٹھیک ہے پھر میں آجاتا ہوں۔”
“ہرگز نہیں۔” وہ جیسے چیخ کے بولی۔
“سوچ لو ہم باہر کہیں بھی ملیں گے تو لوگ اسے ڈیٹ سمجھیں گے۔۔” وہ عرصے بعد اس ٹون میں بولا تھا۔
“مجھے سچ بتانا کہ ایک عام شہری کی جاسوسی کرنا چیپ حرکت ہے یا نہیں؟ “
“مجھے بھی سچ بتانا کہ ایک عام شہری کو پریشان کرنا کیا چیپ حرکت نہیں۔” “تم درد دل ہو بس ٹھیک ہے کافی ہے! اب درد سر بننے کی کوشش مت کرو یار..
Download link
MERE WO KAISRI PHOOL BY FARZANA KHARAL
Novel Description
ناول کا نام: میرے وہ کیسری پھول
مصنفہ: فرزانہ کھرل
اشاعت: خواتین ڈائجسٹ، اگست 2021
جاگیردارانہ پس منظر میں سجی یہ خوبصورت کہانی دل کو چھو لینے والی ہے۔
ہیروئن ورثہ اپنے قبیلے کی پرانی دشمنی کے باعث مجبوری میں ہیرو قسام ملک کے “دیوان ہاؤس” میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔💕 وہاں قدم قدم پر اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سلسلے سے وابستہ ہے جسے یہ لوگ کمتر سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف قسام کے دل میں ورثہ کے لیے بے حد چاہت ہوتی ہے🌹 مگر ورثہ اپنی شناخت کی تلاش میں الجھی رہتی ہے۔ اسے اپنے خاندان کے ماضی کا سچ جاننے کی شدید خواہش ہوتی ہے مگر اس کی دادی لب تک نہیں کھولتیں، جس سے ورثہ کے دل میں بغاوت کے شعلے مزید بھڑک اٹھتے ہیں۔
یہی بے یقینی اور رازداری اسے گھر والوں سے لے کر ہیرو تک، سب کے خلاف چھوٹی بڑی شرارتوں پر آمادہ رکھتی ہے۔ وہ اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے قسام کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی🙂۔ کہانی بتدریج آگے بڑھتی ہے، راز کھلتے ہیں، جذبات نکھرتے ہیں…
اور آخرکار یہ سفرِ محبت اور تلاشِ شناخت ایک خوشگوار انجام پر جا کر مکمل ہوتا ہے۔ ♥️🌹