Novel Review By Rabia Kashif.
دل سے نکلے ہیں جو لفظ از فرحت اشتیاق
خواتین ڈائجسٹ جولائی 2005 تا ستمبر 2005
کتابی شکل میں دستیاب یہ ناول پہلی بار 2005 کے وسط میں خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا اور زمانہ وقت کے قارئین کو عمر حسن اور ودیعہ کمال کی محبت کی ایک انوکھی سی داستان پڑھنے کو ملی، جیسے ہم آج تک فراموش نہیں کر سکے۔۔۔
میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ فرحت اشتیاق سے بہتر لفظ “محبت” کی کوئی تشریح نہیں کر سکتا اور یہ محض مبالغہ آرائی یا خام خیالی نہیں ہے، بلکہ ذرا غور کرنے پہ آپکو معلوم ہو گا کہ انکے تمام ناولز کی بنیاد محبت ہی ہوتی ہے۔ انکا یہ ناول “دل سے نکلے ہیں جو لفظ” خصوصا میری اسی بات کا عکاس ہے۔۔
“محبت جن کے ساتھ ہوتی ہے’ وہ کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ محبت انہیں کبھی تنہا ہونے نہیں دیتی۔۔”
“محبت کے نام، جو میرے لکھنے کی پہلی اور آخری وجہ ہے۔ جس کے لئے میں لکھتا ہوں، جس کی وجہ سے میں لکھتا ہوں”
“محبت اسکا زاد سفر تھی، اور یہ زاد سفر اسے بہت تھا”۔
ایسے بہت سے خوبصورت اقتباس، گاڑھی اردو اور بیحد خوبصورت الفاظ کے بنت سے بنی ایک خاص الخاص کہانی ہے، جو اپنے اندر چند کرداروں کی محبت، احساسات اور انکی زندگی کے نشیب و فراز کے گرد گھومتی سادہ مگر منفرد سی داستان چھپائے ہوئے ہے۔۔۔
محبت کو پا کر کھو دینے کی داستان جس کے روح رواں عمر حسن اور ودیعہ کمال ہیں۔۔
ادبی ذوق رکھنے والے ابا میاں کی سرپرستی میں پرورش پانے والا۔۔۔ محبت کو شدت سے سوچنے، چاہنے اور محبت کے لئے لکھنے والا “عمر حسن” ایک بہت خوبصورت کردار۔۔۔۔۔ جسکی قربانی، ایثار، محبت اور دوستی قابل تحسین اور بے مثل ہے۔۔
دوسرا کردار ودیعہ کمال کا ہے۔۔ عمر حسن کی طاقت، امید اور ہمت بنی رہنے والی “دیا”۔۔۔ جب اپنی زندگی کے تاریک لمحوں میں انا اور خود ترسی کی انتہا کو پہنچی، تو سنگدلی کا عملی منظر پیش کرتے ہوئے “عمر حسن” کو ہی اسکے شہر محبت سے دربدر کر دیتی ہے۔۔۔۔
اس سب کے مابین پل کا کام انجام دیتی، پر تجسس طبیعت کی مالک اور عمر کی محبت سے شدید محبت کرنے والی “زنیرہ عباس” جسکی لگن ودیعہ کمال کو شہر محبت کا دروازہ دوبارہ کھولنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔۔
فون پہ بولے ودیعہ کمال کے وہ تین الفاظ “عمر لوٹ آؤ” ناول کا خوبصورت ترین حصہ لگے۔ اس پوائنٹ پہ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتیں ہیں۔۔
ایک بات جو اس مکمل ناول کی قابل توجہ ہے کہ ناول میں یہ تینوں کردار ہمیں اپنے اپنے انداز میں محبت کو برتتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اس اختلاف کے باوجود ان کی زندگی کی اساس محبت ہی ہے۔۔۔
دوسری اہم بات اس کہانی کو پڑھتے ہوئے بارہا بار محسوس ہوتا ہے کہ یہ ناول کہیں نا کہیں پڑھنے والے کو لکھنے کی تحریک بھی دے رہا ہوتا ہے۔۔
فرحت اشتیاق کی تحاریر کی سب سے بڑی خوبی الفاظ کا چناؤ ہے۔۔ وہ غصہ اور نفرت کے اظہار کے لئے بھی غیر مناسب اور ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کرتیں جو انکے قاری کو کسی الجھن میں مبتلا کر دے۔۔۔
نئے پڑھنے والوں کے لئے کہانی کا مختصر سا خلاصہ پیش کرتی جاؤں تو عمر حسن اور ودیعہ کمال کی پرورش ابا میاں(دادا جان) کی سرپرستی میں ایک ہی گھر میں ہوتی ہے۔ بچپن سے ہی ان کے درمیان دوستی کا بہت خوبصورت سا رشتہ استوار ہو جاتا ہے، رات بھر بیٹھ کر ودیعہ کے لئے کہانیاں سنانے اور گھڑنے والا “عمر حسن” چوبیس سال کی عمر تک پہنچ کر “Forever” کے نام سے ایک بیسٹ سیلر انگریزی ناول لکھ کر بہت سے لیٹری ایوارڈ اپنے نام کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔۔۔
اسکی ہر خوشی کا جشن مناتی ودیعہ اور بے شمار کامیابیاں سمیٹتے عمر کو ایک چھوٹی سی گھریلو تقریب میں ایک دوسرے کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے۔۔
ودیعہ کمال کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں سجی وہ تین نگوں والی انگوٹھی گویا انکے درمیان موجود محبت کی کاملیت پہ مہر ثبت کر دیتی ہے۔
انکی محبت اپنی منزل پا لینے کے در تھی۔۔۔
ملن کی گھڑی آن ٹھہرتی ہے۔۔۔۔
مگر ان حسین ساعتوں کی آمد سے قبل ہی انکی تمام خوشیاں ایک بھیانک حادثہ کی نذر ہو جاتی ہے۔۔
اپنی زندگی کے ان تاریک لمحوں میں انا اور محبت کی کشمکش میں جکڑی ودیعہ کمال، عمر حسن کو اپنی زندگی سے نکل جانے کا جان لیوا حکم صادر کر دیتی ہے۔۔ عمر حسن اپنی محبت کی بے اعتباری سے خائف ہو کر دور دراز کے ایک علاقے میں گوشہ نشینی اختیار کر لیتا ہے۔۔
یہی ناول کا ٹرنئگ پوائنٹ ہے۔ یہاں سب کچھ بدل جاتا ہے، وہ لمحہ عمر کی زندگی میں ایک عجیب موڑ لیکر آتا ہے اور محبت لکھنے والے عمر حسن سے رشتوں اور محبت کے ساتھ لفظ بھی روٹھ جاتے ہیں۔۔
حسین ترین ناولز میں سے ایک ہے، جس کے ہر لفظ کو بہت خوبصورتی کے ساتھ صفحات کی زینت بنایا گیا ہے کہ ایک ایک جملہ دل پہ اثر کرتا محسوس ہوتا ہے۔
کیونکہ بلاشبہ دل سے نکلے ہیں جو لفظ، وہی اثر رکھتے ہیں.