Novel Lines
” آپ”
انزلہ نے میگزین بند کی نک سک سےتیار ، خوشبو اڑاتے بھر پور پرسنالٹی لیے۔
“کوئی کام تھا؟” وہ سر اٹھا کر سنبھلی۔
“ہاں۔”
وہ اس کے سامنے بیٹھے۔
“کل بچوں کے جملہ حقوق تمہارے نام کیے تھے آج اپنے جملہ حقوق تمہارے نام کروانے آیا ہوں قبول کر لو۔”
جی آنکھوں میں تحیر ابھرا۔
“بچوں کے ساتھ مجھے بھی بانٹ لو …. مجھے آتش دان کے پاس اکیلی بیٹھی لڑکی کی تنہائی دور کرنی ہے۔ اس کے ساتھ باتیں کرتی ہیں ، اب اکیلے کمرے میں تنہا نہیں سو سکتا۔ میری تنہائی شیئر کر لو۔“
انہوں نے دھیرے سے ہاتھ پھیلا دیا۔
“میں نے منع تو نہیں کیا آپ خود…..”
“ہاں ، میں خود ہی سمجھ کر آیا ہوں تم نے کبھی سمجھا تھا نہ مانگنا تھا، نہ دیتا تھا اور نہ کسی بکھرے ہوئے شخص کو سمیٹنا تھا۔” پر شکوہ نگاہ ڈالی۔
“اتنا گلہ۔ امی کہتی ہیں تم بچی ہو مجھے بچوں کو ہی سمیٹنا آتا ہے اور کچھ زندگی میں سیکھا ہی نہیں۔“
“میں جانتا ہوں۔”
اس کے قریب ہوئے، باڈی اسپرے کی خوشبو سے ڈسٹرب کرنے لگی۔
“تم صرف قبول کر لو باقی میرا کام۔”
ہاتھ تھام لیا۔
“میں نے بتایا تھا نا میں بچوں۔”
وہ جھجکی۔
“بس!”
آگے کہنے سے روک دیا۔