Novel Lines
آپ میرے شوہر ہیں مالک نہیں۔میں آپ کی بیوی ہوں کوئی نوکرانی نہیں۔”دوبدو جواب دیتے ہوئے اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا مگر گہری براؤن آنکھوں میں دیکھنے کی تاب نہ رہی تھی اس میں۔ضوفی نے گھبرا کر فوراً نظریں جھکالی۔
“اُف۔۔۔۔یہ انداز آپ کے۔دل چاہ رہا ہے کہ۔۔۔!”ادھوری بات کہ کر وہ اس کی سمت بڑھا مگر اس سے پہلے کہ وہ قریب آتا۔وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے جلدی سے دروازے کی سمت بڑھی مگر عظام شاہ بھی شاید اس کے بھاگنے کے ارادے کو بھانپ گیا تھا تبھی وہ اس سے پہلے ہی ایک جست میں دروازے تک پہنچ کر اس کے ہینڈل پی ہاتھ رکھ چکا تھا جبکہ ضوفی کا ہینڈل پہ رکھا ہاتھ عظام شاہ کی سخت گرفت کے نیچے دب گیا تھا۔
“ارے بیگم جی۔۔۔!اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی۔آئیے نا ساتھ ناشتہ کرتے ہیں۔”ہونٹوں پہ طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوئے عظام نے اسے اپنے بانہوں کے حلقے میں لیا عظام کے گیلے بدن سے لگ کر اس کے کپڑے بھی گیلے ہونے لگے تھے۔
“وہ مجھے چھوڑیں پلیز۔مجھے جانا ہے۔”اس نے منمناتے ہوئے کہا۔اس کی آنکھیں پانی سے جھلمل ہوگئی تھی۔عظام نے اس کی طرف دیکھا۔بلیک فٹنگ ہاف سلیوز سوٹ میں اس کا قیامت خیز حسن و نوخیز ہوش ربا سراپا اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔اپنے لبوں کو بےدردی سے کچلتی گھبرائی شرمائی اس وقت اسے وہ سب سے حسین لگ رہی تھی۔وہ آگے بڑھ کر تمام فاصلے سمیٹ دینا چاہتا تھا۔ضوفی کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔آج پہلی بار اس نے عظام کی آنکھوں میں کچھ انوکھا دیکھا تھا اور ویسے بھی عظام کا دل اس کی سمت ہمکنے لگا تھا۔
Download link
Novel Description
ناول: آتشِ عشق
مصنفہ: افشاں علی
اشاعت : رِدا ڈائجسٹ، جنوری 2014 🔥
خون بہا اور ایمرجنسی نکاح پر مبنی ایک دلکش رومانوی کہانی ہے❤
ہیروئن ضوفشاں اپنے والد اور بہن کے ساتھ شہر میں رہتی ہے، ایک بہن شادی شدہ ہے۔💞 ضوفشاں اپنے کزن نیلوفر کی شادی میں گاؤں جاتی ہے💐
لیکن نیلوفر کسی اور کو پسند کرتی ہے، مگر پنچایت کے فیصلے کے باعث اس کا نکاح ہیرو اعظم شاہ سے طے پاتا ہے۔💔
شادی کے دن نیلوفر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے، تب ضوفشاں کے والد عزت بچانے کے لیے بیٹی کا ایمرجنسی میں اعظم شاہ سے نکاح کروا دیتے ہیں💍
شادی کے بعد ان دونوں کی زندگی کی خوبصورت کہانی شروع ہوتی ہے😍
محبت، سمجھوتے اور احساسات سے بھرپور یہ کہانی خوشگوار انجام پر ختم ہوتی ہے💖💑🌹