Novel Lines
“حدید چھوڑیے۔”وہ اس کی مضبوط پناہوں میں بری طرح مچلنے لگی تھی۔بلیک شیشوں میں ایک سمندر امنڈ آیا تھا۔سکندر کی حرکت نے ان کے انداز نے اسے ہراساں کرڈالا تھا۔دل کی دھڑکنیں تھی کی تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی مگر سکندر حدید کو اس کی غیر ہوتی حالت کی پرواہ ہی کب تھی۔وہ جو اس کی آنکھوں میں نمی نہیں دیکھ سکتا تھا آج اس کی آنکھوں سے بہتے ریلے نے بھی انہیں کمزور نہیں کیا تھا۔سکندر حدید اس سے اپنا حق وصول کرچکے تھے۔
“دیکھو مسکان اب جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب شاباش کھڑی ہو فریش ہوجاؤ پھر میں تمہیں گھر ڈراپ کردوں گا۔”انہوں نے نرمی سے اس کا جھکا ہوا سر اٹھایا۔
“نہیں میں گھر نہیں جاؤں گی۔”ہچکیوں کے درمیان انہی لفظوں کی تکرار تھی۔
“مسکان ضد مت کرو۔”
“نہیں مجھ۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”وہ کسی معصوم صدی بچے کی طرح ان کا ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولی تھی۔آنکھوں میں موجود خوف و ہراس نے ایک لمحے کیلیے سکندر حدید کو ڈگمگایا ضرور تھا مگر انہوں نے بھی اپنے قدموں کو روکنا تھا مضبوطی سے کھڑا رہنا تھا۔
“حدید مجھے آپ اپنے ساتھ رکھ لیں نا۔میں یہی اسی گھر میں کسی کونے میں پڑی رہوں گی۔”اس پر جو افتاد آن پڑی تھی اس نے اس کی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحتیں مفلوج کردی تھی۔وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے۔
“نہیں مسکان تمہاری جگہ گھر کے کسی کونے میں نہیں بلکہ میرے دل میں ہے۔”انہوں نے بےاختیار اس کے بہتے اشکوں کو اپنی مضبوط انگلیوں کے پوروں پہ جذب کرلیا تھا۔
“اور اب تمہیں کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔مجھے صرف تین ماہ کا وقت چاہیے۔ایک سیمینار اٹینڈ کرلوں پھر اس گھر سے میں تمہیں ہمیشہ کیلیے لے آؤں گا۔”انہوں نے اس کا ٹھنڈا یخ بستہ نازک سا مخروطی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کیا تھا۔