Thakan Be Naam Musafaton Ki By Asia Razaqi.

Novel Review By Rabia Kashif.



تھکن بے نام مسافتوں کی از آسیہ رزاقی
شعاع ڈائجسٹ فروری 2003

گوگل پر اس ناول کا لنک “مسافتوں کے لمحے از ماہا ملک” کے نام سے موجود ہے جبکہ اس ناول کی حقیقی خالق مرحومہ آسیہ رزاقی ہیں۔ دو روز پہلے اسکی ریکوسٹ بھی پوسٹ ہوئی تھی۔ (درستگی کر لیں)

ایمرجینسی نکاح بیس ناول ہے۔ شائستہ اور پختہ انداز بیان کے ساتھ ہلکی پھلکی سی فیملی ڈرامہ کہانی ہے۔۔۔ آسیہ رزاقی نے بہت سادہ اور فطری انداز میں لکھا ہے کہ کچھ بوجھل پن محسوس نہیں ہوا۔۔۔

انتہائی مختصرا کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہیروئین پروا اپنے پھپھوزاد سے منسوب ہے مگر اسکی بھابی اسکا نکاح زبردستی اپنے ایک رشتہ دار سے کروانا چاہتی ہے تب بھابی کی دوست ہیروئین کی مدد کرتے ہوئے اسکا نکاح ہیرو سے کروا دیتی ہے۔ ہیرو کون ہے؟ آسیہ رزاقی نے اسکی شخصیت میں تھوڑا سا سسپنس رکھا ہے۔ تو وہ میں نہیں بتا رہی۔ کہانی بہت اچھی ہے۔۔

ہیرو کا کردار مختصر ہے مگر مجھے بہت اچھا لگا۔ خوش مزاج، دوسروں کی پرواہ کرنے والا۔ اسکی باتوں اور رویے میں ایک فطری خیال اور محبت تھی۔۔۔

Download link

THAKAN BE NAAM MUSAFATON KI BY ASIA RAZAQI

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *