Novel Lines
” آپ مجھے اچھی لگتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ فیصل اور ثوبیہ کی شادی کے بعد ہماری بات بھی طے کر دی جائے ۔ آپ کو کوئی اعتراض؟ دیبہ نے ایک دم سر اٹھا کر یوسف کی طرف دیکھا اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یوسف اُس سے یہ سب کہہ رہا ہے۔ شک تو اُسے تھا لیکن اتنی جلدی اتنا اچانک وہ کہہ دے گا۔ اُسکی اُمید نہیں تھی دیبہ کو۔
دیبہ کی خاموشی پر یوسف کو پریشانی ہوئی۔ پھر اُسکے تاثرات دیکھ کر یوسف کو اندازہ ہوا کہ وہ شاک کے عالم میں ہے ۔ یوسف کچھ اور بھی اُس سے قریب ہوا۔ وہیبہ نے سر ایک دفعہ پھر سے جھکا لیا۔
وو میں چلتی ہوں ۔۔۔ دیبہ مڑی لیکن جا نہ سکی۔ کیوں کہ اُسکا ہاتھ یوسف کی گرفت میں یوسف کی گرفت میں آچکا تھا۔
” مجھے جواب دیئے بغیر نہیں جا سکتی ۔ یوسف نے دھونس جمائی ۔ اُس نے نرمی سے دیبہ کو اپنی طرف موڑا۔
تمہیں پہلی دفعہ دیکھتے ہی میرے دل نے فیصلہ کر لیا تھا کہ تم ہی وہ لڑکی ہو جسے میرا دل ہمیشہ کے لیے اپنا ساتھ بنانا چاہتا ہے۔ مجھے پہلی نظر میں ہی تم سے محبت ہو گئی تھی ۔ دیبہ کا سر جھکا ہوا تھا اور دونوں ہاتھ یوسف کی گرفت میں تھے۔ شرم کے مارے اسکے گال سرخ ہو گئے تھے اور دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جیسے سینہ تو ڑ کر باہر آجائے گا۔
میں نے فیصل سے بات کر لی ہے اور اُس نے یقینا ابھی تک امی سے بات کر لی ہوگی۔ لیکن میں پہلے تمہاری رائے جاننا چاہتا ہوں ۔ یوسف کے لہجے میں سنجید گی تھی۔ دیبہ خاموش رہی۔
دیبہ پلیز مجھے بتاؤ۔ تمہاری خاموشی سے میرے دل کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ اگر میری امی رشتہ لے کر آئیں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ۔ یوسف کے لہجے سے بے چینی ٹپک رہی تھی۔
دیبہ سے سر نہیں اٹھایا گیا۔ اُس نے جھکے سر کے ساتھ نفی میں گردن ہلائی۔ یوسف اُسکے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔ -اس سے زیادہ وہ یوسف کی قربت میں نہیں کھڑی ہو سکتی تھی۔ اُس نے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور تیزی سے ڈرائنگ روم سے نکل گئی ۔
یوسف کو اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس ہوا۔ ایسے لگا جیسے کل کائنات کے خزانے اُسے مل گئے ہوں۔ اُسکے چہرے کی مسکراہٹ دل کا حال عیاں کر رہی تھی۔