Khara Badal By Aimal Raza.

Novel Lines

فہد اس کے کمرے میں آیا تھا۔ اس کا چہرہ اس کی آنکھوں کی طرح سُرخ سُرخ ہو رہا تھا۔
“وہ لڑ رہی ہے، بول رہی ہے مجھ پر۔ وہ سمجھ رہی ہے کہ میں اس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہوں.”
” لیکن کیوں…..؟”
“وہ کہتی ہے کہ میں اور تُو مطلب تیرا میرا کوئی ناجائز رشتہ ہے،.”
“کیا؟” اور آصو اتنی زور سے ہنسی کے کھڈی کے سارے پُرزے اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ماتم کرنے لگے۔
“پاگل نہ ہو تو، رشتے کے جائز اور ناجائز ہونے کا اسے کیا پتا۔۔۔۔”
“کیا تم کل رات میرے کمرے میں آئی تھی؟”فہد نے چور آواز سے پوچھا۔
“تو کیا پہلی بار آئی تھی؟ وہ جرات سے بولی۔
“یہی تو میں اسے سمجھا رہا ہوں کہ پگلی ایسی کوئی بات ہوتی تو کیا وہ مجھے نہ بتاتی؟ ہماری شادی میں تو کوئی اڑچن ہی نہیں تھی۔ لیکن وہ سمجھتی ہی نہیں۔۔۔ کہتی ہے تو اسے اب اچھا لگنے لگا ہے۔”
“اب اچھا لگنے لگا ہے۔ کم عقل نہ ہو تو۔۔۔۔ میں نہ کہتی کہ لمبی ہے۔ عقل ضرور چھوٹی ہوگی۔”
“میں بھی یہی کہتا ہوں لیکن وہ مانتی ہی نہیں، گھر جانے کی دھمکی دیتی ہے۔” “خیر تم اس کی فکر نہ کرو میں اس سے بات کرتی ہوں، میں سمجھا دیتی ہوں کہ جذبات وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں، جذبات تو قوس قزاح کے مانند ہوتے ہیں جن کی اصل ماخذ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔”
شام میں وہ ماریہ کے کمرے میں گئی۔ اماریہ نے آصو کو دیکھ کر پہلے تو منہ پھیر لیا لیکن پھر ایک گھنٹے کے بعد اسے کمرے سے باہر چھوڑتے وقت وہ اسی سے معافی مانگ رہی تھی۔
“مجھے معاف کر دو آصو، میں نے ایسے ہی تم پر شک کیا۔”
“معافی کیسی؟ تم نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس پر حق بجانب ہو۔ دل کی نگاہ سے دیکھتی تو یقیناً سمجھ جاتی۔۔۔۔”

Download link

KHARA BADAL BY AIMAL RAZA

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *