Novel Description
🌸 Dast-e-Betalab Mein Phool 🌸
ناول: دستِ بے طلب میں پھول
مصنفہ: Iffat Sehar Tahir
اشاعت: Shua Digest اگست-ستمبر 2005
یہ ایک نہایت خوبصورت خاندانی کہانی ہے جو روایتی جاگیردارانہ نظام پر مبنی ہے۔ ناول میں زبردستی نکاح، خاندانی رسم و رواج اور شادی کے بعد کے حالات کو نہایت پختگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ 💫 👌📖
🌿 کہانی کا خلاصہ:
ہیروئن شہر گل ایک حویلی کے ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکی ہے، جہاں بیٹیوں کی شادی خاندان سے باہر کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر رشتہ خاندان میں نہ ملے تو لڑکی عمر بھر کنواری رہ جاتی ہے۔ 😔
شہر گل کی شادی اس کے چچا زاد سے طے کی جاتی ہے، حالانکہ وہ پہلے ہی کسی اور سے منگنی کرنے والا ہوتا ہے۔
شہر گل کے چچا، جو شہر میں رہتے ہیں اور تعلیم یافتہ ہونے کے باعث حویلی کی فرسودہ رسومات کے خلاف ہیں، اچانک حالات میں اپنے بیٹے اویس شاہ کا نکاح شہر گل سے کروا دیتے ہیں اور اسے اپنے ساتھ شہر لے آتے ہیں۔ 🏙️
💞 محبت کا سفر:
اویس شاہ شروع میں کسی اور کو پسند کرتا ہے، مگر نکاح کے بعد کہانی ایک خوبصورت موڑ لیتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا رویہ نرم اور محبت بھرا ہو جاتا ہے۔ 😍❤️
شادی کے بعد کے جذبات، غلط فہمیاں، قربت اور بدلتے ہوئے احساسات کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
آخرکار یہ رشتہ محبت میں ڈھل جاتا ہے اور کہانی ایک حسین اور خوشگوار انجام پر ختم ہوتی ہے۔ 👩❤️💋👨✨
💖 ایک خوبصورت لو اسٹوری جس میں روایات، قربانی اور محبت کا دلکش امتزاج ہے۔
ہَیپی اینڈنگ کے ساتھ ایک یادگار ناول! 🌷📚
Download link
👇
DAST E BE TALAB MEI PHOOL BY IFFAT SEHAR TAHIR.
یہ ایک کاغذی شادی تھی اور یہ بات بھی اول روز سے طے تھی۔پھر تم یوں ری ایکٹ کیوں کررہی ہو۔۔۔۔”
“میں آپکی بیوی ہوں۔۔۔”
وہ زرد پڑگئی تھی۔
“مگر صرف پیپرز میں۔۔”
اس نے بہت سفاک حقیقت اس کے سامنے لا کھڑی کی تھی۔
شہرگل کو لگا اس کی ٹانگیں اس کے وجود کا بوجھ سہارنے سے انکاری ہوں۔
“آپ کے اس طرح کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔میں آپکی منکوحہ ہوں۔آپ ایسا کیوں کہ رہے ہیں۔”
اس کی آواز کپکپانے لگی تھی۔
“تمہارے لیے تمہاری دوست زوباریہ کے بھائی کا پرپوزل آیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اب تم اپنی زندگی کے متعلق سنجیدگی سے سوچو۔عامر نے تو مجھے بہت اطمینان دلایا ہے۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ پہلے تم اپنا مائنڈ میک اپ کرلو اور آئندہ زندگی۔۔۔”
وہ کیا کہ رہا تھا۔
شہرگل کو لگا ایک دھمالے سے کمرے کی چھت اس کے سر پرآ گری ہو۔
اب جانے آنسوؤں کی چادر تھی یا اس کی آنکھوں کے آگے سفید سی دھند پھیلی،گم ہوتے حواس کے ساتھ بےاختیار ہاتھ آگے بڑھا کر کسی شے کا سہارہ تلاش کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتی وہ لڑکھڑا کر نیچے گرگئی۔
“شہرگل۔۔۔!اوہ گاڈ۔۔۔”
حواس کھونے سے پہلے اس کی سماعتوں سے اویس کی گھبرائی ہوئی آواز ٹکرائی تھی۔
