Novel Lines
یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم داور کی بیوہ ہو تم نے صارم کی حوصلہ افزائی کیوں کی۔”وہ اس کی راہ میں حائل ہو گیا تھا ایک لمحے کو تو وہ خود سمجھ ہی نہ پائی تھی۔
“کیا مطلب۔”
“اتنی معصوم نہیں ہو تم جتنی بن رہی ہو۔”
“سالار خان کھل کر بات کریں پہیلیاں مت بھجوائیں۔”
“صارم نے تمہارے لیے اپنا پروپوزل دیا ہے کیا میں پوچھ سکتا ہوں تو میں اسے اجازت کیوں دی۔ کہاں گئے وہ دعوے کہ تمام عمر داور کے نام پر بیتا دو گی۔کہاں گئے وہ وعدے وہ جھوٹی تسلیاں جو تم اب تک دا جی کو دیتی آرہی تھی کہ ان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گی۔” اس کی طرف بڑھتے ہوئے بول رہا تھا اور میرب پیچھے کو ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی تھی۔
“بولو میرب احسان جواب دو۔” دائیں بائیں بالکل اس کے حصار میں آگئی۔ اس کی زندگی میں تین مرد ائے تھے مہران شاہ داور خان اور صارم رضا وہ کسی سے بھی محبت نہ کرسکی تھی۔حتی کہ نکاح کے بعد بھی اسے دلاور خان سے محبت نہیں ہوسکی تھی۔ہاں وہ اس کی عزت ضرور کرتی تھی کہ وہ اس کی عزت کا رکھوالا ثابت ہوا تھا۔شاید وہ اس سے محبت بھی کرتی اگر شادی ہوجاتی۔۔۔مگر وائے قسمت کہ محبت ہوئی بھی تو کس سے؟اس شخص سے جو شاید اا دنیا میں اس سے سب سے ذیادہ نفرت کرتا تھا۔اس کج صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔میرب کو پتہ بھی نہ چلا کہ آنسو اس کے گال بگھوتے چلے گئے۔
“جانتا ہوں یہ آنسو عورت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہوتے ہیں مگر۔۔۔تم جیسی عورتیں۔۔۔”
“مجھ نیسی عورتیں؟کیسی عورت ہوں میں؟کیا کیا ہے میں نے؟آخر میا بگاڑا ہے میں نے آپ کا؟”وہ تڑپ کر اس کے حصار سے نکلی تھی۔
Download link
CHALO HUM HAAR JATY HAIN BY HINA MALIK
Novel Description
ناول: چلو ہم ہار جاتے ہیں
مصنفہ: حنا ملک
اشاعت: آنچل ڈائجسٹ، اگست 2009
Rude Hero Based | Second Marriage based 💖
ہیروئن میرب کے والدین نے محبت کی شادی کی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ حویلی چھوڑ کر شہر میں آ بسے ہوتے ہیں۔ میرب وہیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہے 🎓✨
اس کا کزن مہران اسے پسند کرنے لگتا ہے، مگر اس کا غیر سنجیدہ اور حد سے بڑھا ہوا رویہ میرب کو اس سے بدظن کر دیتا ہے 🙂
اچانک ایک المناک حادثے میں میرب کے والدین کا انتقال ہو جاتا ہے 💔
ایسے نازک وقت میں ہیرو سالار افندی کا بڑا بھائی میرب کی مدد کرتا ہے، لیکن خاندان والے اس پر الزامات لگا دیتے ہیں۔ حالات کے دباؤ میں وہ میرب سے نکاح کر لیتا ہے 💍
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے… رخصتی سے پہلے ہی اس کا قتل ہو جاتا ہے 😢
اس کے بعد ہیرو سالار افندی میرب کے ساتھ بے حد سخت اور تلخ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کی موت کا ذمہ دار میرب کو سمجھتا ہے، اسی غلط فہمی میں اسے اذیت دیتا رہتا ہے 😔💔
لیکن وقت، سچ اور محبت آخرکار سب کچھ بدل دیتے ہیں…
کہانی کا انجام Happy Ending ہے 💖❤️
درد، صبر اور محبت سے بھرپور ایک یادگار ناول 🌸✨