Novel Lines
آپ کیا سمجھ رہی ہیں میں آپ کوڈائیورس آسانی سے دے دوں گا محترمہ یہ اپ اپنے دماغ میں بٹھا لیں۔ہمارے خاندان میں نا اج تک کسی کو ڈائیورس ہوئی ہے اور نہ کوئی یہ برا فعل سرانجام دیتا ہے۔” اس کی گیلی لٹوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کیا وہ بدک کے پیچھے ہوئی تھی۔
“لیکن میں ایک جھوٹے اور دھوکے باز انسان کے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں رکھنا چاہتی۔”وہ بھی خونخوار لہجے میں ہی اسے باور کراتی شیرنی لگی۔
“لیکن میں یہ رشتہ آخری سانس تک قائم رکھوں گا علیشبہ صفوان۔” اس کے کمر میں اپنا بازو حمائل کیا اور اس کا گیلا وجود اپنے سے قریب کر لیا۔
“اگر زیادہ شور مچانے کی کوشش نہیں نا تو سوچ لو اس سے اگے میں کیا کر سکتا ہوں۔”وہ سرمئی آنکھوں میں شوخی شرارت اور رعب و دھونس لیے اس کے کانوں کی لووں پر اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔علشبہ نے اس لمحے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس کیا صفوان نے اسے چھوڑ دیا تھا۔
“نیچے معیز سے ملنے ا جاؤ ورنہ ایسا نہ ہو کہ مجھے زبردستی کرنی پڑ جائے۔”
اونہہ۔نخوت سے کہا۔
“سامان اپنا باندھ لیجیے گا میں رمضان اور عید گاؤں میں کرتا ہوں اماں بہت بے تاب ہے اپنی نئی بہو سے ملنے کیلیے۔”باہر جاتے ہوئے کہا وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہی تھی۔ مجبوراً معیز سے بھی ملی کیونکہ صفوان کی دھمکی نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔
“علیشبہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے تمہارا اچھا سوچ کے ہی۔۔۔”
“پلیز معیز بھائی مجھے اس ٹاپک پہ بلکل بات نہیں کرنی ہے کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے جنہیں ہم اپنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہی ہمیں دھوکہ دیتا ہے۔” لہجے میں حسرت محرومی اور اداسی پنہاں تھی۔
Novel Description
🌸 ناول: اب تو ہوگیا ہر دن عید
✍️ مصنفہ: شازیہ مصطفیٰ
اشاعت: ✨ ردا ڈائجسٹ – اکتوبر 2008
💕 💕
علیشبہ کی زندگی پہلے ہی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ ماں کی وفات نے اس کے دل میں جو خلا چھوڑا تھا، والد کی اچانک موت نے اسے اور بھی گہرا کر دیا۔
اب وہ اکیلی ایک بڑے گھر اور بے شمار ذمہ داریوں کے ساتھ رہ گئی تھی۔ اوپر سے رشتے داروں کی بدلتی ہوئی سوچ اور خود غرضی اسے مزید بےچین کر رہی تھی۔
اسی دوران اسے پتا چلتا ہے کہ اس کے چچا اپنی پوری فیملی کے ساتھ اس کے گھر آنے والے ہیں۔
فوراً سمجھ جاتی ہے کہ ان کا مقصد اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر گھر اور جائیداد پر قبضہ کرنا ہے۔
ایسے وقت میں اس کے ذہن میں ایک ہی راستہ ابھرتا ہے—
⭐ کسی کے ساتھ معاہداتی نکاح کرلیا جائے، تاکہ چچا کی نیت پر پانی پھر جائے۔
اپنی قریبی سہیلی کی مدد سے وہ اس کے شوہر کے دوست صفوان تک پہنچتی ہے۔
صفوان دیہات کا سادہ، کھرا اور بےحد شریف مزاج نوجوان تھا۔
پہلے پہل وہ ایسے نکاح کے لیے راضی نہیں ہوتا، مگر علیشبہ کی بےبسی اور حالات کو دیکھ کر آخرکار ہاں کر دیتا ہے۔
یوں دونوں کے درمیان ایک وقتی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
🌹 پھر کہانی اپنا رنگ بدلتی ہے…
جو نکاح صرف ایک معاہدہ تھا، وقت کے ساتھ ساتھ نرم جذبات میں ڈھلنے لگتا ہے۔
علیشبہ کی نزاکت اور صفوان کی سادگی دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے۔
گھر کے معاملات میں ساتھ دینا،
چھوٹی چھوٹی باتوں پر خیال رکھنا،
خاموشیوں میں بھی ایک دوسرے کی موجودگی محسوس کرنا—
یہ سب اس رشتے کو مضبوط بناتا جاتا ہے۔
آہستہ آہستہ یہ کاغذی رشتہ
سچے رشتے میں بدل جاتا ہے
❤️ اور انجام…
چچا کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں۔
علیشبہ محفوظ بھی رہتی ہے اور مطمئن بھی۔
صفوان اس کے لیے وہ سہارا بن جاتا ہے جس کی اسے برسوں سے تلاش تھی۔
آخر میں دونوں کی زندگی واقعی—
🌙✨ “اب تو ہوگیا ہر دن عید” ✨🌙
ایک دلکش، سادہ، محبت اور اپنائیت سے بھرپور کہانی…
خوشگوار انجام کے ساتھ ♥️