Novel Lines
خبردار اپنی جگہ سے ہلا تو اور مولوی تمہیں انتظار کس چیز کا ہے نکاح شروع کروائیے جلدی۔”اس نقاب پوش کے لہجے میں درشتی اور سختی تھی۔
“شٹ اپ پاگل ہو گئے ہو تم دونوں کیا ہو رہا ہے یہ۔”وہ دونوں رو ان کے دوست تھے۔وہ صدمے کی کیفہت میں چلا کر پوچھ رہی تھی۔میر نے اپنی جگہ سے حرکت کی مگر حبیب تیزی سے اگے ایا اور اس نے گن والا ہاتھ سیدھا کیا اور سرد لہجے میں وارننگ دی تھی۔
“اس معاملے سے دور رہو وشما۔”
“تم یہ ظلم نہیں کر سکتے یہ دھوکہ نہیں دے سکتے یہ جرم ہے۔” وہ سرخ رنگت کے ساتھ مزید بلند اواز میں چلائی تھی۔حبیب کے چہرے پر سرخی بڑھی۔ اس نے ضبط نہ کیا اور اس نے الٹے ہاتھ کا بھرپور تھپڑ وشما کو مارا۔ وہ لڑکھڑا کر چیختی ہوئی ایک طرف گر گئی۔
“آپ کو کس چیز کا انتظار ہے مولوی صاحب نکاح شروع کیجئے۔” وہ تحکمانہ انداز میں بولا تھا۔
مولوی صاحب ہڑبڑا کر پھر سے سطریں دہرانے لگے۔وہ اسی طرح ساکت تھی وہ اس سے اقرار چاہ رہے تھے۔پھر حبیب نے مولوی صاحب کو اشارہ کیا کہ وہ اقرار کو چھوڑیں اور سائن کروائے۔اگلے لمحے اس نے میر کو اپنے ساتھ بیٹھتے دیکھا۔اس کے اندر لمحہ بڑھ کو ہلچل مچی اس نے سنیعہ کا ہاتھ پکڑ کر قلم اسے تھمایا اور بہت اہستگی سے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
“سائن کرو سنیعہ اور سنیعہ نے دیکھا اس کی انکھوں میں ایسی درندگی اور وحشت تھی کہ لمحہ بھر کو بھی وہ اگر دیر کر تی تو لامحالہ میر نہ جانے کیا قدم اٹھاتا۔اس نے جیسے آنے والے وقت کی تباہی دیکھی اور اپنی ذات کی کرچیاں دیکھی اور پھر خاموشی سے دستخط کرتی گئی۔ اس کے بعد میر کے سائن کا مرحلہ شروع ہوا اور یوں وہ سنعیہ مبشر سے سنعیہ سعد بن گئی۔اس کا سر اتنی شدت سے گھوما کے وہ چکرا کر گری تھی۔
Download link
UMEED E SEHAR BY SUNDAS JABEEN
Novel Description
📖 ناولٹ کا نام: امیدِ سحر
✍️ مصنفہ: سندس جبیں
اشاعت: حنا ڈائجسٹ، اکتوبر 2016
Forced Marriage based | University based | 💞 |Emergency Nikah | Happy Ending 🥰💞