Novel Lines
یہ لیں آپ کی منہ دکھائی کا تحفہ۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا اس نے ہاتھ میں تھما دیا۔انگوٹھی ہار سیٹ وغیرہ تو سنے تھے منہ دکھائی میں کاغذ کا ٹکڑا اس نے حیرت سے کاغذ کھولا ایک لاکھ کا چیک اس کے ہاتھ میں تھا۔
“ایک لاکھ۔”وہ سن سی رہ گئی۔
“یہاں کون سی پہلی بار شادی ہو رہی ہے۔اس کلموئی طلاقن کے تو نصیب کھل گئے۔”بہت سی باتیں ذہن میں گڈ مڈ ہوئی تھیں۔
“ایک بچی تو سنبھالنی ہے شوہر کے ساتھ میں باقی تو عیش و عشرت میں رہے گی۔”
اس نے بھی مشکل اپنا چکراتا سر سنبھالا۔
“نہیں۔۔ نہیں۔۔نہیں۔۔”
“میں بکی نہیں۔” وہ ہذیانی انداز میں بولی۔چیک اس نے یوں اپنے آپ سے دور پھینکا جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ہو شاہ میر کے لیے اس کا یہ رد عمل بڑا غیر متوقع تھا۔
“ایک لاکھ میں مجھے آپ نے خرید لیا صرف اپنی بیٹی کی خاطر۔طلاق یافتہ ہی تھی کوئی نیچ قسم کی عورت نہیں۔”
“عروبہ۔” اس نے عروبہ کو کندھوں سے تھام لیا۔
“کیا ہوا کیا تحفہ پسند نہیں آیا۔”وہ اس پر جھک گیا۔
“مت چھوؤ مجھے۔”آہ تڑپ کر پیچھے ہٹی۔
“خدارا مجھے یوں پامال نہ کرو۔میں ایسے ہی تمہاری بیٹی کو سنبھال لوں گی۔”وہ سسک اٹھی۔
“یہ کیا بے وقوفی ہے عروبہ۔” شاہ نے اسے جھنجوڑنا چاہا تو بے جان ہو کر اس کی بانہوں میں جھول گئی۔
Novel Description
Short Story |Age Difference Based | Second Marriage based | After Marriage | Romantic Story 👌🏻❤️ | Happy Ending 👌🏻👩❤️💋👨💞
Download link
BANHON KAY GHEREY MEI BY HUMA JAHANGEER