Lagan By Bushra Rehman.

Novel Review By Rabia Kashif.

Lagan by Bushra Rehman

ناول: لگن از بشری رحمن۔
صفحات: 546

80 کی دہائی میں یہ ناول لکھا گیا اور 1996 میں اس ناول سے ماخوذ شہرہ آفاق ڈرامہ “بندھن” پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوا تھا مگر ڈرامہ اور ناول میں بہت کچھ مختلف ہے۔ ناول کا شروع کا یا یہ کہہ لیں کہ صرف مرکزی خیال ڈرامہ کا حصہ تھا، اس لئے جنہوں نے ناول نہیں پڑھا وہ ناول ضرور پڑھیں۔

“لگن” کی کہانی کا پہلا تاثر یہی آتا ہے کہ یہ ایک رومانوی کہانی ہے مگر یہ کہانی آئیڈیل ہونے سے آئیڈیل بننے تک کی ہے۔
یہ زندگی کے رموز کو پا لینے کی کہانی ہے۔

یہ فلک کی کہانی ہے۔۔۔
وہ ایک سطحی سوچ رکھنے والی بگڑی امیر زادی ہے۔ جسکی تربیت درست خطوط پر نہیں ہوتی اور سمجھتی ہے کہ اپنی خوبصورتی کی بنا پہ وہ کسی بھی مرد کو اپنے قابو میں کر سکتی ہے۔ تاہم اس کا یہ خیال آفاق سے ملنے کے بعد غلط ثابت ہو جاتا ہے۔۔
آفاق سے پسند کی شادی کے باوجود وہ اس رشتہ سے منسلک ذمہ داریوں سے خائف ہے اور اب ایک معاہدے کے تحت اس شادی کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔
شادی کے بعد اس کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں، اس کی سوچ میں پیدا ہونے والی پختگی اور اس سارے کے دوران فلک پر وارد والی محبت اور عشق کی کیفیت کو بہت خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالا گیا ہے۔ کچھ مناظر نے تو سحرزدہ کر دیا۔

ایک بہت اہم نکتہ کی وضاحت بھی بہت سادہ اور رواں انداز میں ملتی ہے کہ ہر انسان میں خود کو کس حد تک بدل لینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر وہ اس سے بےخبر ہوتا ہے اور جب اس میں کوشش بھی شامل ہو جائے تو وہ کسی کا بھی آئیڈیل بن سکتا ہے۔

آفاق کا کردار بہت ذہین تھا اور ذہین کردار پڑھنا کسے پسند نہیں؟ اسکے مکالمے مجھے بہت پسند آئے۔۔

برمحل شاعری/کلام کا استعمال سونے پر سہاگا ثابت ہوا۔ کسی بھی ناول میں یہ میرا پسندیدہ حصہ ہوتا ہے کیونکہ وہ غزل یا کلام سنتے ہوئے میں کرداروں کے احساسات کو بہتر انداز میں محسوس کر سکتی ہوں۔

روانی، شائستگی اور پختگی سے مزین بہت پیارا ناول ہے۔ مختصر جملے، برجستہ مکالمے، محصور کن منظر کشی، ذہین کردار، ہر بیانیہ کی مکمل وضاحت۔ پڑھتے ہوئے کوئی سوال ذہن میں اٹھا بھی تو اگلے کسی سین میں اسکی وضاحت بھی مل جاتی تھی۔ کمال۔

جہاں ناول میں بہت کچھ میرے ذوق مطالعہ کے عین مطابق تھا وہاں چند ایک خامیاں بھی تھی۔ مکمل تو کچھ بھی نہیں ہوتا مگر کہانی اور تحریر میں اتنی پختگی تھی کہ وہ خامیاں اسکی خوبصورتی پر بالکل اثرانداز نہیں ہوسکی۔

یہ کہانی کم وبیش پینتیس چالیس سال پرانی ہے، اسی زمانے کے روایات و رواج کے مطابق ہے، اگر اسے اسی پیرائے میں پڑھا جائے گا تو ہی اسکے مقاصد و مفہوم تک اترا جا سکتا ہے۔

#review_by_rabeya

Download link

LAGAN BY BUSHRA REHMAN

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *