Novel Lines:
کیوں۔”مغیث نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ آنے کے ساتھ ہی بھابھی صاحب قبضہ جماتی ہے بھائی جان پر۔پھر گھر بھر کو اپنی سلطنت سمجھنے لگتی ہیں اور سب سے ذیادہ تو بےچارے دیور ہی ان کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں۔”منیب نے تفصیلی تجزیہ پیش کیا تھا۔
“بلکل سو فیصد درست بات کی ہے منیب نے۔”معید نے شاید زندگی میں پہلی بار منیب کی کسی بات کی تائید کی تھی۔
“ہر بات میں ٹانگ اڑانا ادھر کی بات ادھر لگانا۔افراد خانہ کو آپس میں لڑوانا ، بھابھیوں کے فیورٹ مشغلے ہوتے ہیں۔”معید نے تائیدی بیان جاری کیا۔
“نہیں یار!وہ ایسی نہیں ہے۔”مغیث کافی بےچارگی سے بولا۔
“اوہ تو۔۔وہ ایسی نہیں ہے۔”وہ چاروں کورس میں بولے۔
“کون کیسی نہیں ہے۔”بابا ایکدم نجانے کہاں سے آگئے تھے۔مغیث کے چہرے پر تو ہوائیاں اڑنے لگیں۔
“وہ بابا۔۔صغری کے متعلق بات کررہے ہیں۔معید کہ رہا تھا کہ صغری کی عادت لگائی بجھائی کی ہے اور میں کہ رہا ہوں کہ وہ ایسی نہیں ہے۔”مغیث نے بدوقت تمام بات سنبھالی۔بابا نے حسب عادت گھورا پھر میز سے عینک اٹھا کر چلے گئے۔
“اوہ تو صغری نام ہے ان کا۔۔نہیں یار! کافی پرانا نام ہے ہمیں پسند نہیں آیا۔”معید نے فوراً رد کرتے ہوئے کہا۔
“تو اتنی دیر سے صغری کی بات ہورہی تھی اور میں نہ جانے کیا سمجھا۔”منیب نے بھی افسوس سے سرہلایا۔
“پلیزصغری کو انولو مت کریں ماشااللہ سے آٹھ بچے ہیں اس کے اور اللہ گڈو کے ابا کو سلامت رکھے۔بہت محبت ہے دونوں میاں بیوی میں۔”ماہا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
“اور چلو گڈو کے ابا اور صغری میں کسی نہ کسی طرح ناچاقی کروا بھی دیں تو پھر بھی یار سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔آٹھ بچوں کی فوج ظفر موج کی پرورش کوئی آسان کام نہیں۔تیرا تو دیوالیہ نکل جائے گا۔”معیز نے بھی بہت خلوص سے سمجھایا۔مغیث نے دانت کچکچاتے ہوئے سب کو گھورا۔
“کتنے بےمروت بہن بھائی ہو تم۔”وہ خفگی کے انداز میں اٹھ گیا۔
Novel Description
ناول کا نام: دیپ دل کے جلے
مصنفہ: راشدہ رفعت
اشاعت: پاکیزہ آنچل ڈائجسٹ، اکتوبر 2005
ماہا اپنے چار بھائیوں کی لاڈلی اور اکلوتی بہن ہے۔ ماں کے انتقال کے بعد بھائی ہی اس کا سہارا، اس کی خوشی اور اس کی شرارتوں کا مرکز ہیں۔ اُن کے درمیان ہونے والی چھیڑ چھاڑ اور پیار بھری نوک جھونک گھر کا ماحول ہمیشہ خوشگوار رکھتی ہے۔
عدیل—جو کہ اس کے والد کے بہت قریبی دوست کا بیٹا ہے—ماہا کی زندگی میں بے ساختہ اُجالا بن کر داخل ہوتا ہے۔ دونوں کی منگنی خاندان کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتی ہے۔
یونیورسٹی میں ماہا کی مصروفیات کے ساتھ ایک اور دلچسپ موڑ تب آتا ہے جب عدیل کی کزن، جو اسی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے، دل ہی دل میں عدیل کے لیے جذبات رکھتی ہے۔ اس پہلو سے کہانی میں ہلکی سی کشمکش اور جذبات کا ایک نیا رنگ شامل ہو جاتا ہے۔
لیکن آخرکار محبت، اعتماد اور خوبصورت رشتوں کی جیت ہوتی ہے… اور کہانی نہایت دلکش اور خوشگوار انجام پر مکمل ہوتی ہے۔
بہت پیاری اور دل کو چھو لینے والی ۔ 🌹♥️✨