Novel Lines
وہ کریں فون ہمیں خدا کی قدرت ہے کہیں ہم حیرت کی زیادتی سے مر نہ جائیں۔”
اس نے خود اس سے رابطہ کیا اور اب اس کی شوخ گنگناہٹ سن کر کلس رہی تھی۔
“حکم! ارشاد ….”
وہ اس کے پکارنے پر بھر پورمستی سے بولا۔
“پاپا جان تم سے ملنا چاہتے ہیں آج یا کل کسی بھی وقت آکر ان سے ایک ملاقات کرلو۔”
خشک روکھا لہجہ ہر جذبے سے عاری تھا۔
“کیوں عین جوانی میں بیوہ ہونا چاہتی ہو ڈیئر ! تمہارا کیا خیال ہے تمہارے پاپا جان مجھے زندہ سلامت رہنے دیں گے۔”
وہ جیسے بدکا۔
“میں تمہارے ساتھ جانے پر آمادہ ہوں یہ تسلی کافی ہونا چاہیے تمہارے لیے اور ہاں جو پایا کہیں مان لینا خود سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔وہ نروٹھے پن سے بولی۔
“ہائیں……ایسی خوف ناک شرطیں نہ منواؤ زندگی!! تمہارے پاپا جان اگر طلاق نامے پہ سائن کرنے کو کہیں تو کیا وہ بھی کردوں؟”
اس کے گمبیر لہجے کی شوخیوں سے وہ جیسے حلق تک سرخ ہوگئی تھی۔ ایک بار پھر اسے خود پر ضبط کرنا محال ہوا تھا۔
“دیکھو فضول باتوں میں اپنا اور میرا وقت برباد نہ کرو جیسا میں کہہ رہی ہوں ویسا ہی کرو۔“
“آج تک تمہارے کیے پر عمل کر کے کون سا فائدہ ہوا ہے مگر خیر اگر تم کہتی ہو تو یہ بھی کر گزروں گا۔ چاہے سر مقتل ہمیں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے۔”
سردآہ بھر کے مصنوعی سے انداز میں بات کرتا وہ اسے تپا گیا اور مزید کوئی بات کہے بغیر اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
Novel Description
ناول : 🌸 کچھ اور ہے اپنے ساجن میں
مصنفہ: ✍️ امِ مریم
اشاعت: 🗞️ حجاب ڈائجسٹ، جولائی 2016
یہ ایک 💖 اغوا اور زبردستی نکاح پر مبنی خوبصورت کہانی ہے 🌹
ہیروئن الوینہ کی پرورش اس کی ماں کی قریبی سہیلی نے کی ہوتی ہے 👩👧۔
ان کا بیٹا الوینہ کو پسند کرنے لگتا ہے، مگر جب الوینہ کو سچائی کا پتہ چلتا ہے تو وہ دل برداشتہ ہو کر گھر چھوڑ دیتی ہے 😔 اور اپنا تبادلہ دیہات میں کروا لیتی ہے 🏡۔
وہاں اس کی ملاقات زوار شاہ سے ہوتی ہے، جو گاؤں کے جاگیردار کا بگڑا ہوا بیٹا ہوتا ہے 😏۔
زوار، الوینہ کی معصومیت اور خوبصورتی پر فدا ہو جاتا ہے 💞 اور ضد میں آ کر زبردستی اس سے منگنی کر لیتا ہے۔
الوینہ یہ سب برداشت نہ کر پاتی اور شہر واپس آ جاتی ہے 🚶♀️💨، مگر زوار اسے اغوا کر کے نکاح کر لیتا ہے 💍۔
اس کے بعد کہانی میں زوار کے کردار میں حیرت انگیز تبدیلی آتی ہے ❤️، اور ان دونوں کی زندگی محبت اور احساس سے بھر جاتی ہے 🌸۔
کہانی کا اختتام ایک خوبصورت ہیپی اینڈنگ پر ہوتا ہے 💖✨👩❤️👨