Novel Review By Rabia Kashif.
ہم بھی کتنے سادہ تھے از راحت جبیں
شعاع ڈائجسٹ اگست 2004
صفحات -40
راحت جبیں کے خوبصورت انداز بیان میں لکھا ایک منفرد اور دل کو چھو لینے والا مختصر ناول ہے۔۔ راحت جبیں کے مستقل قارئین کو اندازہ ہو گا کہ راحت جبیں بہت سادہ و آسان الفاظ میں بہت خاص سماجی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔۔ اس ناول کا موضوع بھی بہت منفرد اور اچھوتا سا ہے۔۔
کہانی کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ عینا ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک زندہ دل شوخ اور لابالی لڑکی ہے۔ بطور پرنسپل وقتی طور پر اپنے تایا کا سکول سنبھال رہی ہے۔۔ وہاں اس کی ملاقات رئیس احمد سدھو صاحب سے ہوتی ہے۔ ایک مناسب رشتہ آنے پر گھر کے بڑے عینا کی شادی طے کر دیتے ہیں۔ شادی کے بعد کہانی میں ایک اہم موڑ آتا ہے۔
اس ناول کی خاص بات مختلف سوچ اور پس منظر رکھنے والی دو خواتین کے احساسات کو بہت خوبصورت انداز میں لکھا گیا ہے۔ جہاں خدیجہ کا دکھ آزردہ کر دیتا ہے تو وہیں عینا کی عظیم قربانی دل چھو لیتی ہے۔۔۔ خوبصورت مناظر اور منظرکشی کے ساتھ اس ناول میں ایک خوبصورت، مثبت سا پیغام ہے۔ (پرانے قارئین کو یہ ناول یقینا یاد ہوگا)۔
خوشگوار اختتام ہے یا نہیں؟
موضوع بہت مختلف ہے، کوئی لو سٹوری نہیں ہے تو امید بھرا خوشگوار اختتام کہہ سکتے ہیں۔۔
#review_by_rabeya