Ik Tera Intizar Hai By Aroosa Aalam.

Novel Lines

تم فیملی کی کسی لڑکی سے سادگی سے نکاح پڑوا لو اور جب تمہاری ممی ٹھیک ہو جائیں تو پھر پورے طریقے سے شادی کر لینا یا طلاق لے لینا۔تم کاغذی شادی ہی تو چاہتی ہو نا اپنے بھائی کی۔” عشاء کی بات پر سارا کے ذہن میں جھماکہ سا ہوا۔
“اعے ایشا میرے بھائی کی شادی تو ابھی اور اسی وقت ہو سکتی ہے۔”سارہ نے بازو تھام کر جوش اور خوشی سے کہا۔
“ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ اتنی جلدی لڑکی کہاں سے ائے گی اور اب چٹکی بجاتے ہی لڑکی کا مسئلہ حل بھی ہو گیا۔”اس نے اچھنبے سے کہا۔
“وشاء تم تیار ہو جاؤ پلیز عشاء تم مان جاؤ گی تو یہ شادی ابھی ہو جائے گی۔”سارا نے اس کے ہاتھ تھامتے ہو لجاحت سے کہا تو عشاء کی انکھیں ابل پڑی۔تھوڑی دیر کے لیے تو اس کی اواز بند ہو گئی۔
“میں پر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔”
“ہو سکتا ہے بالکل ہو سکتا ہے بس تم ہاں کرو میں بھائی جان سے بات کر لوں گی۔”سارہ نے روتے ہوئے عشاء کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں بھینچ لیا۔
“سارا میں یہ سب کروں گی تو میرے گھر والے تو مجھے مار ڈالیں گے۔
“میں جانتی ہوں کہ یہ بہت بڑا کام ہے لیکن تم پریشان مت ہو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔” اور پھر سب کچھ ہو گیا اس کے نہ نہ کرنے کے باوجود بھی ہاں ہو گئی۔
“ویسے تو اب میں آپ پر مکمل استحقاق رکھتا ہوں لیکن ہماری شادی جن حالات میں اور اس انداز میں ہوئی ہے میں اپ کو یہاں نہیں روک سکتا۔اب ہم ہسبیڈ اور وائف ہیں۔”نہایت ذومعنی جملہ بڑے دل ربا انداز میں ادا کیا گیا تھا۔نکاح کے بعد یہ پہلی بات تھی جو ان دونوں کے درمیان ہوئی تھی۔

Download PDF Link Below…

Ik Tera Intizar Hai By Aroosa Aalam

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *