Fasal E Gull Hai By Farah Bukhari.

Novel Lines

 ساری دنیا فون اٹھاتے ہی ہیلو کہتی ہے آپ جی کیوں کہتے ہیں۔”؟
بنا سلام دعا اسنے سلسلہ کلام جوڑا۔
“زہے نصیب….”
نجم نے اس کی آواز پہچان کر بشاشت سے کہا۔ “بڑی دیر کی مہربان.…..”
“دیر سویر کیسی؟ میں نے کب کہا تھا کہ فون کروں گی؟“
اس نے بمشکل مسکراہٹ دہائی۔
“ہاں ، کہا تو نہیں تھا لیکن دل کہہ رہا تھا کریں گی
ضرور……”
“خوا خواہ خوش نہ ہوں۔ میں نے تو کام سے فون کیا ہے؟”
“اچھا……”نجم سنجیدہ ہوا۔
“فرمائیں کیا کام ہے؟”
“آپ کی شاپ پر ناول وغیرہ بھی ہوتے ہیں کیا؟ مجھے نسیم حجازی کے کچھنا وتر چاہئیں۔“
“جی بالکل موجود ہیں، آپ نام لکھوا دیں میں دیکھ لیتا ہوں۔“
“نام لکھوانے کی کیا ضرورت ہے میں خود ہی آجاؤں گی لینے کے لیے۔”
اس کی سنجیدگی پر مہرو دل ہی دل میں نہنس پڑی۔ غالبا ٹوکے جانے پر نجم نے سبکی محسوس کی تھی۔
“موسٹ ویلکم جب دل چاہے۔”
اب وہ واقعی بہت ریز رو انداز میں بات کر رہا تھا ۔ مہرو کو سچ مچ ترس آگیا۔ “ایک بات کہوں۔”
“جی ، جی…..”
“آں……وہ……..دراصل میں نے ناولوں کے لیے فون نہیں کیا کیا تھا۔ بس پتا نہیں کیوں صبح سے عجیب سی بے چینی تھی کہ آپ کو فون کروں پھر کوئی بہانہ نہیں سوجھا تو ناولوں کا کہہ دیا۔”

Download link

FASAL E GULL HAI BY FARAH BUKHARI

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *