Novel Lines
محبت تو تم مجھ سے بھی کرتی تھیں، کچھ عرصہ پہلے تم مجھ سے محبت کی دعویدار تھیں ۔”
وہ زہر خند لہجے میں بولا، وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا اور و ہ ہولے ہولے پیچھے، اچانک اس کے قدم تھم گئے تھے، مگر اس کے قدموں کی پیش قدمی جاری تھی۔
“بولو۔” اس کی بازگشت پر اسرار بنائے
میں ابھری تو اس نے نگاہیں واکیں۔
“میں تو اب بھی آپ سے محبت کی دعویدار ہوں۔ “
اس نے بے بسی سے اعتراف کیا ،و ہ استهزائه ہنسا
“کیسی محبت؟”
اس کی تیز نگاہیں اس کے وجود پر جم ی تھیں جو ہوئے ہو لیے تھر تھرا رہا تھا،
“میں آپ کی خوشی چاہتی ہوں! اور کوئی
تشریح نہیں ہے محبت کی میرے پاس۔”
اس کی آواز سر گوشیوں میں ڈھلنے لگی تھی۔
“میری خوشی؟”
اس نے سوالیہ انداز اپنایا اور اپنے مابین ایک قدم کا فاصلہ بھی ختم کر دیا، اس نے دونوں ہاتھ دائیں بائیں دیوار پر اس کے شانوں کے اوپر جمائے۔
“میری خوشی اس میں ہے کہ تم ہماری زندگی سے کہیں دور چلی جاؤ، اذان ابصار کے دل و دماغ
میں کسی انابت رقیم کے لئے کوئی جگہ نہیں۔”
اسکا گمبھر آواز میں کہا گیا اگلا مطالبہ اس کی روح قبض کرنے کو کافی تھا۔
“ایسا ظلم مت کریں، میں آپ سے دور
Novel Description
🌺 ناول: راہِ اُلفت میں
✍ مصنفہ: صبا جاوید
حنا ڈائجسٹ – نومبر 2011
✨ Feudal system, Forced marriage based دلکش کہانی ❤️
انابت کے والدین نے زمانے کی پروا کیے بغیر لو میرج کی تھی۔ اس رشتے کی وجہ سے وہ اپنے بااثر جاگیردار خاندان سے الگ رہنے لگے۔ انابت کے تایا اب بھی پرانی روایات کے اسیر تھے، اسی لیے وہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے طے کرنا چاہتے تھے جو نہ صرف شادی شدہ تھا بلکہ چار بچوں کا باپ بھی…!! 😣💔
باپ نے بیٹی کا مستقبل اس ناانصافی میں گم ہوتا دیکھا تو اسے اپنے پرانے دوست کے گھر بھیج دیا۔ یہی سے کہانی میں داخل ہوتا ہے ازان ابصار… ایک سخت مزاج، روڈ جسے اپنے جذبات کا اظہار کرنا نہیں آتا تھا 😒🔥
لیکن تقدیر نے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا—
ازان کے والد نے دونوں کی شادی پر زور دے کر انہیں اس رشتے میں باندھ دیا۔ یہ شادی انابت کے لیے بھی آزمائش تھی اور ازان کے لیے بھی… مگر وقت کے ساتھ ساتھ تلخیاں پگھلتی گئیں، روکھے لہجے نرم پڑ گئے اور دلوں میں قربتیں اُترتی چلی گئیں 💕🌙
کہانی شادی کے بعد کے جذبات، تبدیلی اور محبت کے سفر پر مبنی ہے… اور آخرکار دونوں کی زندگی ایک حسین انجام پر پہنچتی ہے ✨💖
Download PDF Link Below….
👇