Novel Lines
آپ میرا کام کس رشتے سے انجام دے رہی ہیں۔”
“میں بھابھی ہوں آپ کی۔” لفظ بھابھی پر اس نے خاصا زور دیا تو ایک طنزیہ مسکراہٹ ضرہان کے لبوں پر پھیل گئی۔
“بھابھی۔۔میں نے آج تک اپنے بھائی کو دل سے بھائی نہیں مانا تمہیں کیسے بھابھی مان لوں تمہیں اگر اس رشتے کو منوانا ہے تو پہلے میرا حساب برابر کرو جو تمہاری طرف نکلتا ہے۔”
“میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں تھا کیونکہ میرے اللہ کو ہی یہ منظور نہیں تھا کہ تم میرے شریک سفر بنتے کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مومنہ کے لیے مومن اور عیب دار کے لیے عیب دار۔”
سوہا کی پرسکون انداز میں کیے طنز نے ضرہان کے غصے کو جیسے بھڑکا کر رکھ دیا۔پلک جھپکنے میں وہ اس کا بازو کمر کے پیچھے اس طرح لے گیا کہ تکلیف کے مارے اس کی چیخ نکل گئی۔
“جی تو چاہتا ہے کہ اپنے عیب دار ہونے کی ایک جھلک تمہیں دکھا ہی دوں تاکہ تم تو بڑا خود کو اتنی فخر سے مومنہ اور مجھے عیب دار نہ کہہ سکو بھابھی۔”
ضرہان چھوڑو میرا بازو وحشی انسان۔” سوہا خوف اور تکلیف سے چلائی تو ایک جھٹکے سے ضرہان نے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ سوہا منہ کے بل گرتے گرتے بچی۔
“جنگلی شخص تم میرے تو کیا کسی بھی لڑکی کے قابل نہیں ہو تم کیا سمجھتے ہو کہ تم مجھے ڈراؤ گے اور میں ڈر جاؤں گی میں اج ہی سنان اور ممی کو سب ساری بات بتا کر تمہارا اصل چہرہ دکھاتی ہوں تم خود کو سمجھتے کیا ہو ساری اکڑ نکل جائے گی تمہاری۔”سوہا کی دھمکی پر بے اختیار ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں کا احاطہ کرگئی
Download link
👇
BUS IK TERI CHAH HAI BY MEHWISH IFTIKHAR
Novel Description
✨ بس اِک تیری چاہ ہے
مصنفہ: مہوش افتخار
اشاعت: کرن ڈائجسٹ — اپریل 2006
💖 Second Marriage Based | University based | After Marriage Romantic Story ❤️👌🏻👩❤️💋👨
ہیرو زرحان آفندی ایک بگڑا ہوا اور لاپروا نوجوان ہے۔ اس کے والد نے اس کی والدہ سے دوسری شادی کی ہوتی ہے جبکہ پہلی بیوی سے اس کا ایک بیٹا سنان ہے۔ گھریلو حالات اور سوتیلے رشتوں کی کشمکش نے زرحان کی شخصیت میں سختی اور بے باکی پیدا کر دی ہے۔
دوسری طرف ہیروئن سوہا ایک سادہ مزاج اور باوقار لڑکی ہے جو اسی یونیورسٹی میں داخلہ لیتی ہے جہاں زرحان پڑھتا ہے۔ یونیورسٹی میں آتے جاتے زرحان اسے تنگ کرتا رہتا ہے، مگر سوہا اپنی عزتِ نفس اور مضبوط کردار کی وجہ سے اس کے رویّے کو برداشت کرتے ہوئے خود کو سنبھالے رکھتی ہے۔ 🌸
صورتحال اس وقت نیا رخ اختیار کرتی ہے جب سوہا کی شادی زرحان کے سوتیلے بھائی سنان سے ہو جاتی ہے۔ 😮💍
اب رشتوں کی پیچیدگی، جذبات کی کشمکش اور دل کی چاہت ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آتی ہے۔
کیا زرحان اپنی ضد اور انا چھوڑ پائے گا؟
کیا سوہا کی نئی زندگی سکون پا سکے گی؟
💕 کہانی میں محبت، حسد، ندامت اور اصلاحِ نفس کا حسین امتزاج ہے اور سب سے اچھی بات یہ کہ اس کا اختتام خوشگوار ہے۔
Happy Ending ❤️🥰😍