آپ کو اندر آنے سے پہلے اجازت لینی چاہیے تھی۔”وہ ڈوپٹہ ایک طرف رکھے بہت ایزی انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔اس لیے اس طرح اچانک حسن کے اندر آنے پر خجل ہوگئی۔
“میں نہیں سمجھتا کہ مجھے اپنی بیوی کے بیڈروم میں آنے کیلیے کسی اجازت کی ضرورت ہے۔”حسن نے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے جس اطمینان سے یہ بات کہی۔اس نے اقصی کے پورے وجود میں پھریری سی دوڑادی۔ان کے نکاح کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ حسن نے اس سے اپنے رشتے کو جتایا تھا۔
“ویسے بائے داوے۔آپ خود اس لفظ اجازت ست آشنا ہیں جو دوسروں کو اس کی تصیحت کررہی ہیں۔”حسن کا انداز بےحد طنزیہ تھا۔اقصی سمجھ گئی کہ وہ باز پرسی کیلیے آیا ہے۔
مجھے آپ سے کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔اقصی نے بےمروتی کا مظاہرہ کیا۔
“ضرورت ہے مسز اقصی حسن۔یہ گھر صرف آپ کا نہیں کہ آپ جسے چاہے یہاں بلالیں اور کوئی آپ سے پوچھنے والا نہ ہو۔”حسن کا لہجہ کاٹ دار تھا۔
“صرف میرا نہیں لیکن میرا بھی ہے۔اس لیے کم از کم مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے باپ کو ملنے کیلیے یہاں بلاسکوں۔”اب حقیقت کو چھپانا مشکل ہے۔اس لیے اس نے اعتراف کرلیا۔
“باپ۔۔کون سا باپ۔۔۔؟وہ شخص جس نے ساری زندگی پلٹ کر تمہارا حال نہیں پوچھا۔آج وہ باپ ہونے کا دعوے دار بن کر یہاں آگیا ہے اود تم ہماری محبتیں بھول کر اس شخص کو سر آنکھوں پہ بٹھارہی ہو۔”حسن کی آواز میں طنز اور غصے کی آمیزش تھی۔
“محبت کے نام پہ زیادتی کرنا کوئی آپ لوگوں سے سیکھے۔اسی محبت کا سہارہ لے کر آپ لوگوں نے مجھ سے میرا باپ چھین لیا۔کیا جرم تھا میرے ابو کا؟صرف یہی نا کہ وہ غریب تھے۔خالہ اور خالو جان کو انہیں اپنے برابر بٹھاتے ہوئے توہین محسوس ہوتی تھی۔اس لیے ان سے ان کی بیوی کو بیٹی کو چھین لیا۔”وہ ایکدم ہی پھٹ پڑی تھی۔حسن حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
✨ ناول: “چاہا ہے تجھے” —
مصنفہ: ✍️ اسما قادری ✨
اشاعت: شُعاع ڈائجسٹ، دسمبر 2007
Age Difference Based,Emergency Nikah 💕
اقصٰی کی ماں، شوہر کے سخت اور تلخ رویّے سے تنگ آ کر
بیٹی کو لے کر الگ ہو جاتی ہے۔
حسن کے والدین دونوں ماں بیٹی کو اپنے گھر میں پناہ دے کر
اقصٰی کی پرورش محبت سے کرتے ہیں۔
سالوں بعد اچانک حسن کی ماں کا انتقال ہو جاتا ہے،
تو پھپھیاں اعتراض اٹھا دیتی ہیں کہ
اقصٰی دو غیر محرم مردوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں کیسے رہے؟
گھر میں شور شرابا، بحث و تکرار…
اور پھر حسن کے والد،
عزت و غیرت کے پیشِ نظر
ہنگامی طور پر حسن اور اقصی کا نکاح کروا دیتے ہیں ۔
حالتیں بدلی، رشتہ بدل گیا،
اور پھر اسی نکاح میں
آہستہ آہستہ محبت کے نرم چراغ جلنے لگتے ہیں۔
کہانی ایک پیاری، سکون بھری
Happy Ending
پر مکمل ہوتی ہے۔
💖💏✨
AASHNAIYAN KIA KIA BY ASMA QADRI
Novel Lines مجھے چوڑیوں کا شور بالکل پسند نہیں اس لیے میرے سامنے یہ مت…
Novel Description ناول کا نام _ راستے کٹتے نہیں تنہامصنفہ:فاطمہ امبریناشاعت: شعاع ڈائجسٹ، اپریل 1998)…
Novel Description ناول: آنگن میں اترے چاند 🌙مصنفہ: مریم ساجد ✍️اشاعت: خواتین ڈائجسٹ (اگست 2012)…
Novel Description ناول: دعا ہوگیا کوئی مصنفہ: نبیہ نقوی اشاعت: خواتین ڈائجسٹ دسمبر 1995 Age…
Novel Description ناول: زیست کا یہ سفرمصنفہ: نادیہ فاطمہ رضویاشاعت: آنچل ڈائجسٹ، دسمبر 2007 Revenge…