Wo Yaqeen Ka Aik Naya Safar By Farhat Ishtiaq.

Novel Review By Rabia Kashif.

وہ یقین کا ایک نیا سفر از فرحت اشتیاق
خواتین ڈائجسٹ مارچ 2002

فرحت اشتیاق کا کلاسیکل انداز میں لکھا ایک بہت پیارا ناول جس کی ڈرامائی تشکیل بھی ہو چکی ہے۔۔۔

سلیس و سادہ انداز بیان لئے اس مختصر رومانوی ناول میں کہیں مکالمہ نگاری کمال کی لگی تو کہیں کردار نگاری اور منظر نگاری نے اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔۔

کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ گھٹن زدہ ماحول کی پرور دہ “ڈاکٹر زوبیہ خلیل” خود پہ لگنے والے اپنوں کے بے بنیاد الزامات اور انکے رویوں سے بے یقین ہونے کے بعد دور دراز علاقے میں واقع ایک گاؤں کے ہاسپٹل میں جاب انٹرویو کے لئے آتی ہے جہاں اسکی ملاقات ڈاکٹر اسفند یار خان سے ہوتی ہے۔۔۔
کہانی میں اہم موڑ تب آتا ہے جب زوبیہ خلیل غلطی سے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ایک آوارہ مزاج شخص کے کمرے میں چلی جاتی ہے۔۔
یہی ناول کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ اسکے بعد کے تمام مناظر (اسفند کا زوبیہ کی سوچ کو پڑھنا، اسکی کہانی جاننا اور اسکی زندگی کو اپنے بھائی کی زندگی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے ایک نئی توجیہہ دینا) کو انتہائی دلکش انداز میں لکھا کیا گیا ہے کہ قاری مبہوت سا رہ جاتا ہے۔۔

40 صفحات پہ مشتمل بظاہر یہ ایک مختصر ناول ہے مگر ایک طویل ناول کی طرح تمام امتیازی خصوصیات لئے اس ناول کی کہانی پہ فرحت اشتیاق کی مکمل گرفت دکھائی دیتی ہے۔۔
یہاں میں چند قابل ذکر نکات کی وضاحت ضرور کرنا چاہوں گی۔۔۔۔

1۔۔ کردار نگاری: وقت کے ساتھ سفر کرتے اور خود کو حالات کے مطابق بدلتے یہ کردار فرحت اشتیاق نے جس دلکش انداز میں لکھے ہیں، وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔۔

ناول کے آغاز میں محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر زوبیہ خلیل احساس کمتری کا شکار، غلطیاں کرنے والی ایک ڈرپوک اور لاپروا سی لڑکی ہے، جو اپنی کسی نادیدہ سچائی کے ظاہر ہو جانے کے خوف سے خود کو لامعنی منفی سوچوں میں الجھائے رکھتی ہے۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس اسفند خان کا کردار ایک سنجیدہ مزاج، اردگرد سے بے نیاز، ایک ذمہ دار ڈاکٹر کا لگتا ہے مگر جب ہم اس ناول کے سفر پہ نکلتے ہیں، بدلتے حالات و واقعات کے ساتھ ہمارے تخیل میں کرداروں کی صورت بھی بدلنے لگتی ہے۔۔۔۔

ماضی کے روح فرسا حالات اور چند اذیت ناک لمحوں سے نبردآزما رہنے والی زوبیہ خلیل ایک بہادر اور درد دل رکھنے والی سمجھدار لڑکی کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے تو وہیں اسفند یار خان بھی غیر محسوس انداز میں دوسروں کا خیال رکھنے والا، زوبیہ کے دماغ میں امڈتی منفی سوچوں کو پڑھ لینے میں ماہر، ایک ذہین انسان کی صورت سامنے آتا یے۔۔

ان سب کے ساتھ “ابی” کا کردار بھی مختصر مگر اہم کرداروں میں سے ایک ہے۔۔۔ پچھتاووں میں گھیرا ایک کمزور شخص جو ہمیں حقیقی زندگی کا ہی ایک کردار محسوس ہوا۔۔۔

2۔۔۔ مکالمہ نگاری۔۔ ناول میں استعمال تمام مکالمے اور بیانیے کرداروں کی ذہنی کیفیت اور انکے حالات کی بھرپور عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔

> جب زوبیہ نے اسفند کو دیکھا۔۔
“کتنا عجیب سا تھا وہ بندہ۔۔ بظاہر یوں لگتا تھا کہیں کھویا ہوا ہو۔ لیکن ایسا تھا نہیں۔”

> کشمالہ اور صائم کے مذاق کے بعد زوبیہ کی کیفیت۔۔
پہلا احساس شرمندگی اور ندامت کا تھا، جس نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا مگر دوسرے پل اسے کشمالہ اور صائم پہ شدید ترین غصہ آیا تھا۔۔۔

> صائم کے ایک فلمی سوال پر زوبیہ کا جواب۔۔۔
“اب میں کچھ بولی تو تمہاری یہ عقلمند بہن وہاں جا کر سب الم نشرح کر دیں گی۔ اس بات کا جواب میں تمہیں کبھی اکیلے میں دوں گی۔”

> زوبیہ اور ابی کے مکالمے۔۔۔
“لوگ نہیں معاف کرتے۔۔ ہے نا ابی۔”

> جب زوبیہ اپنے بھائی سے ملتی ہے۔۔۔
“جب ہم اللہ سے شکوہ کرنے میں دیر نہیں کرتے تو شکر ادا کرنے میں دیر کیوں کریں؟”

الغرض احساسات کے تمام رنگ لئے، خوشگوار اختتام کے ساتھ ایک بہت خوبصورت ناول ہے۔۔ ناول اور ڈرامہ کی کہانی قدرے مختلف ہے، اس لئے ڈرامہ دیکھنے والے ایک بار ناول ضرور پڑھیں۔۔۔

#review_by_rabeya

Download link

WO YAQEEN KA AIK NAYA SAFAR BY FARHAT ISHTIAQ

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Author: Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *