Aab E Hayat by Umaira Ahmed.

Novel Review By Rabia Kashif..

آب حیات از عمیرہ احمد
خواتین ڈائجسٹ 2014 تا 2017

2003 میں شائع ہونے والے شہرہ آفاق ناول “پیر کامل” کے تسلسل میں لکھا گیا یہ ناول پیر کامل کی اشاعت کے تقریبا دس سال بعد منظر عام پہ آیا۔۔

“پیر کامل” ناول کا موضوع ختم نبوت کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو آب حیات خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی سود کے خلاف تعلیمات کا۔۔۔
میرے نزدیک دونوں ناول کا کوئی موازنہ نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی ایک منفرد نظریہ سوچ لئے ہوئے ہیں۔۔۔ ہمیں زندگی کے اہم ادوار کو ایک مختلف انداز میں سوچنے، سمجھنے اور برتنے کی ترغیب دیتے ہیں۔۔۔

پیر کامل “خودی کی تلاش” ہے تو آب حیات “زندگی کے سفر” کی کہانی ہے۔۔۔ زندگی کے ہر میدان میں درپیش چیلنجز کی داستان ہے۔۔۔۔
یہ بظاہر سالار اور امامہ کی کہانی ہے مگر کہیں نا کہیں ہم خود کو اس ناول سے منسلک پائیں گے، کیونکہ یہ وہی سفر ہے جو ہم سب کی زندگیوں کا بھی ہے۔۔

چھ ابواب پہ مشتمل آب حیات کی مزید وضاحت کروں تو لفظ آب حیات کے چھ حروف (آ۔ب۔ح۔ی۔ا۔ت) زندگی کے چھ ادوار کو بیان کرتے ہیں اور ہر باب زندگی کے ایک الگ دور کی عکاسی کرتا ہے۔

آ: آدم وحوا: جب ابن آدم اور بنت حوا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر زندگی کی نئی شروعات کرتے ہیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس “ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺷﺮﯾﮏِ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﻮﮞ ﮔﺎ۔”

ب: بیت العنکبوت: ایک خوبصورت اور مکمل گھر کی خواہش لئے اس کے حصول کی جدوجہد کرنا۔۔۔ اعتبار اور بے اعتباری کی فصیل سے بنا ایک گھر جو درحقیقت بیت العنکبوت (مکڑی کا جالا) سا نازک اور ناپائیدار ہوتا ہے کہ ٹوٹنے کا عمل صرف لمحہ بھر کا ہی ہوتا ہے۔۔

ح: حاصل محصول :اگلہ اہم مرحلہ ہوتا ہے حاصل محصول کا۔۔۔ جمع تفریق کا۔۔۔۔ ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنی ایک خاص منزل کا تعین کرنا چاہتا ہے۔ گزرے ماہ و سال کا محاسبہ کرنے کے بعد اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ کیا، کیوں، کیسے؟ جیسے سوالات کے جوابات تلاشنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:وہ پہلا موقع تھا جب سالار سکندر نے پہلی بار بیٹھ کر اپنی زندگی کے بیالیس سالوں کے بارے میں سوچا تھا۔۔۔ گزرجانے والے بیالیس سالوں کے بارے میں اور باقی کی رہ جانے والی مدت کے بارے میں جو یک دم ہی دہائیوں سے سمٹ کر سالوں،مہینوں،ہفتوں یا دنوں میں سے کسی کا روپ دھارنے والی تھی۔
مہلت کا وہ اصول جو قرآن پاک کی بنیاد تھا۔۔

ی: یا مجیب السائلین :مستقبل کی لامحدود خواہشات اور حال کی لاحاصل تمنائیں ایک اندھے گرداب میں دھکیلتے ہوئے انسان کی زندگی میں ایسی آزمائشیں لاتی ہیں کہ جن میں صرف اللہ یاد آتا ہے۔۔ “یا مجیب السائلین” پکارنے والوں کی پکار سننے والا۔۔۔ کہ اسے پکارو تو وہی ہر مشکل سے نکالتا ہے۔۔۔

ا: ابدا ابدا: ہمیشہ ہمیشہ کے لئے:
عمر رفتہ کا ایسا دور جب انسان کو زندگی کے فانی ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔ اعمال کا پلڑا ایکدم خالی خالی سا لگنے لگتا ہے۔۔۔ ایسے میں وہ اپنی نسل کے عروج میں اپنی بقا تلاشنے لگتا ہے۔۔۔

ت: تبارک الذی : زندگی کا آخری مرحلہ۔ خود کو امر کر دینے کا راز پا لینا۔۔۔ دنیا فانی ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔۔ اس مقام پہ آ کر انسان کے لئے دنیا ختم اور اللہ کی محبت شروع ہو جاتی ہے اور یہی ہمارا آب حیات ہے۔۔

ناول کے چند اہم نکات میں پہلا کردار سازی ہے۔۔ سالار اور امامہ کی کہانی پڑھتے قاری ان کرداروں سے بے اختیار محبت کرنے لگتا ہے۔

دوسرا اس ناول میں آخری خطبہ اور سود کے بارے میں تعلیمات کا پرچار بہت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ نامحسوس انداز میں کی جانے والی چند بے ضرر سی غلطیوں کی وجہ سے جو بے سکونی ہمارے حصہ میں آتی ہے۔ اسے ایک نئے انداز میں سوچنے کی توجیہہ دی گئی ہے۔۔

تیسرا اہم نکتہ سودی نظام کی وضاحت کے لئے کسی بھی انفرادی ادارے اور شخص کو الزام دینے کی بجائے عمیرہ احمد نے کانگو کے واقعات کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح امیر ممالک اس نظام کی بدولت غریب ممالک پہ حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک انسان انفرادی طور پہ کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔۔ اسکی وضاحت پڑھنے کو ملتی ہے۔۔

چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ سادہ سی کہانی لکھنے کی بجائے اس میں زندگی کے تمام رنگ بھرنے کی مکمل کوشش کی گئی ہے۔۔۔ جہاں ایک طرف اپنے خاندان کی بقاء کے لئے سالار بیرونی دنیا میں درپیش مسائل سے نبردآزما ہے، وہیں ایک وفا شعار بیوی اور ماں کی حیثیت سے امامہ کو بھی گھریلو امور میں بے شمار چیلنجز درپیش ہیں۔۔
جن میں جبریل، عنایہ اور حمین کی پرورش۔۔ رئیسہ کو گود لینا، ایرک عبداللہ کا اسلام میں دلچسپی لینا اور عنایہ سے شادی کا پیغام بھیجنا۔ سالار کی بیماری کے ایام میں اسے تنہا چھوڑ کر پاکستان آنا۔۔۔۔
اسی طرح عائشہ عابدین کا جبریل کے دھوکہ میں احسن سعد سے شادی کرنا اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے مسلمان کا چہرہ سب کے سامنے آنا۔۔۔

الغرض آب حیات کے سفر میں ایک کے بعد ایک نیا موڑ سامنے آتا ہے کہ کسی نا کسی نکتہ پہ قاری بہت کچھ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے اور یہی اس ناول کا خوبصورت ترین پہلو ہے۔۔۔۔

ناول کا اختتام “ترپ کا پتہ” نام کی ایک چھوٹی سی کہانی پہ کیا گیا ہے، جسکا براہ راست ناول کے ساتھ کوئی لنک نہیں ہے۔۔ وہاں صرف ایک سوچ کی وضاحت کی گئی ہے کہ زندگی میں درپیش چیلنجز کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ ہیئت بدل لیتے ہیں۔۔

#review_by_rabeya

Download PDF Link Below…

AAB E HAYAT BY UMAIRA AHMED

Admin

Share
Published by
Admin

Recent Posts

Ik Kami Si Reh Gayee BY Rahat Jabeen.

Novel Description ناولٹ نام: اک کمی سی رہ گئیرائٹر: راحت جبیں اشاعت: خواتین ڈائجسٹ، دسمبر…

1 day ago

Teri Be Rukhi Kay Dayar Mei By Seema Munaf.

Novel Description ناول نام: تیری بے رخی کے دیار میں مصنفہ: سیما مناف اشاعت: شعاع…

1 day ago

Naveed E Eid By Asma Qadri.

Novel Description 💐 ناول: نویدِ عید مصنفہ: اسماء قادری اشاعت: شعاع ڈائجسٹ(اکتوبر 2008) ✨ After…

2 days ago

Mohabbat Phool Ki Soorat By Rukhsana Nigar Adnan.

Novel Description ناولٹ: محبت پھول کی صورتاشاعت: خواتین ڈائجسٹ، جنوری 2006مصنفہ: رخسانہ نگار عدنانکہانی کی…

3 days ago

Mei Tere Chand Ka Sahil By Rohaila Khan.

Download link MEI TERE CHAND KA SAHIL BY ROHAILA KHAN

3 days ago

Phool Khilnay Ka Mausam By Umm E Iman Qazi.

Novel Description ناول: پھول کھلنے کا موسم 🌸رائٹر: امّ ایمان قاضی ✨اشاعت:حنا ڈائجسٹ (مارچ 2018)…

3 days ago