Umera Ahmed Official
عکس از عمیرہ احمد ⭐⭐⭐⭐⭐
اشاعت اول: پاکیزہ ڈائجسٹ اگست 2011 تا دسمبر 2012
کتاب اشاعت: 2013
کل صفحات: 587
تبصرہ: رابعہ کاشف
عمیرہ احمد کا شمار میری ان پسندیدہ ترین مصنفین میں ہوتا ہے جن کے قلم سے مجھے عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ ان کی تحاریر محبت، امید اور مثبتیت کا پیغام لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ مذہب اور دین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے چند قیمتی “گر” سمجھاتی ہیں۔۔ امید کا ایک روشن دیا ہوتا ہے، جو کہانی کے اختتام پہ اپنے قارئین کے ہاتھوں میں تھما دیتی ہیں کہ لیں!! اب اسکی روشنی میں صحیح، غلط کا فیصلہ کرنا اور بہتر رستہ تلاش کرنا آپکا کام ہے۔۔
ان کے ناول کے موضوعات ہمیشہ قابل ستائش رہے ہیں اور ان موضوعات سے متعلق انکی معلومات قابل رشک۔۔
وہ معاشرے کے مختلف شعبہ زندگی میں ‘انفرادی’ طور پر اثرانداز ہونے والے چند کرداروں کا انتخاب کرتیں ہیں اور پھر بہت خوبصورتی کے ساتھ ان تمام کرداروں کو ایک جگہ سمو دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحاریر میں بیک وقت بہت سے موضوعات کو ایک ساتھ لیکر چلتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ انکی تحاریر حقیقت سے دور ہوتی ہیں، مگر میں ایسا نہیں سمجھتی۔ عمیرہ احمد کی دہائیوں کے سفر پر محیط ان افسانوی کہانیوں میں کہیں نا کہیں ہمارے معاشرے کی ایک حقیقی کہانی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ بات صرف مشاہدہ کی ہے۔۔
سول سوسائٹی اور بیوروکریسی انکا پسندیدہ ماحول ہے۔ حقیقتا ہمارا معاشرہ طاقت اور شہرت سے Obsessed ہے۔ ایسی زندگی کو ایک آئیڈیل زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عمیرہ احمد اپنے ناولز میں اس مقام تک پہنچنے کے پیچھے چھپی (مثبت یا منفی) کہانی کو بہت خوبصورتی اور ذہانت کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کر دیتی ہیں۔
عمیرہ احمد کی بہت سی تصانیف بیسٹ سیلرز ہیں جبکہ چند مقبول ترین تصانیف کے انگریزی اور عربی تراجم بھی موجود ہیں۔۔
کچھ کتابیں ہم لطف اندوز ہونے کے لئے پڑھتے ہیں۔ چند کی کہانیوں سے ہمیں محبت ہو جاتی ہے اور کچھ کتابیں ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں, شل کر دیتی ہیں, انہیں جتنی بار بھی پڑھیں، زندگی کی ایک نئی کہانی ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
“عکس” میرے لئے بالکل ایک ایسی ہی کتاب ثابت ہوئی۔
سولہ ابواب پر مشتمل عکس ناول کی کہانی و کردار ایک پہیلی کی طرح ہے۔ یہ ایک پیچیدہ کہانی ہے۔ اس ناول کے اسلوب بیان میں عمیرہ احمد کی ذہانت دکھائی دیتی ہے اور اس پہیلی کو حل کرنے کیلئے وہ اسی ذہانت کی توقع اپنے قارئین سے کر رہی ہیں۔
مکمل ناول پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی جگسا پزل ہے جو ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے۔ ہر سین اس پزل کا ایک ٹکڑا ہے، جسے ہم نے اپنی ذہانت سے اسکے اصل مقام پر فکس کرنا ہے۔ جب وہ ٹکڑا اپنے اصل مقام پر فکس بیٹھ جاتا ہے، کہانی کی ایک گرہ کھل جاتی ہے اور وہیں قاری شل رہ جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہوئے بھی آگے بڑھ نہیں پاتے۔۔
ایسا کئے بغیر ہم عکس ناول کو جتنی بار بھی پڑھ لیں، اسکے مقصد و کرداروں کی جانچ نہیں کر پائیں گے اور کہانی ہمیں بور اور وقت کا ضیاع محسوس ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ تقریبا چھ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکمل پڑھنے میں مجھے چھ دن لگے۔
عکس ناول کی کہانی کیا ہے؟ پلاٹ کیا ہے؟
اس سوال کے جواب کے لئے اس ناول کا انتساب پڑھ لینا ہی کافی ہے۔
۔”Sexual Abuse کا شکار ہونے والے ان تمام بچوں کے نام جو اپنی زندگی کی تاریکی میں رہنمائی کی روشنی ڈھونڈ رہے ہیں۔”
ناول میں تجسس ہے۔ ماضی اور حال کا دہائیوں پر محیط ایک طویل سفر ہے۔ مرکزی کرداروں میں نانا خیر دین، نانا کی نواسی چڑیا، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عکس مراد علی، شیر دل اور شہر بانو ہیں۔
شیردل، شہربانو اور عکس مراد علی کی تکونی محبت کی خوبصورت داستان بھی پڑھنے کو ملتی ہے جیسے عمیرہ احمد نے اپنے منفرد انداز میں امر کر دیا ہے۔۔
ناول کی کہانی سول سوسائٹی کے گرد گھومتی ہے۔ ہر کردار کا ایک پس منظر ہے، ایک بیک سٹوری۔ ان کرداروں کو جاننے کے بعد ہم چاہتے ہوئے بھی ان سے نفرت نہیں کر سکیں گے۔۔
تمام کردار ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
کیسے؟ کس حد تک؟
اس پہیلی کو آپ نے خود بوجھنا، جاننا اور سمجھنا ہے۔
ناول کی کہانی بتا کر میں آپکا ناول خراب نہیں کروں گی بلکہ یہاں صرف چند اہم نکات کی وضاحت کروں گی تاکہ آپکو ناول پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی رہے۔
▪️ناول کے سولہ ابواب ہیں اور ہر باب کا آغاز وکٹورین اسٹائل کے ایک Cheval Mirror کے ذکر سے ہوتا ہے۔ وہ آئینہ اصل میں ہر کردار کا آئنیہ دار ہے۔۔ اپنی زندگی کے ایک خاص مقام پر پہنچ کر وہ اس آئینہ میں اپنے کچھ بدنما اور خوشنما دنوں کی دھندلی سی شبیہہ دیکھتے ہیں۔
اس عکس کے ساتھ انکے تعلق کی جانچ کرنا قاری کا کام ہے کہ انکے بدنما دن کیسے خوشنما رنگوں میں بدلے یا قابل رشک زندگی سے قابل ترحم زندگی کیونکر انکا مقدر بنی؟
▪️ناول کا موضوع Child Abuse کا شکار ہونے والی ایک متاثرہ بچی ہے، اس موضوع پر بہت سے ناول پڑھ رکھے ہیں مگر اس ناول کی خاص بات وہ loser نہیں ہے، ایک survivor ہے، struggler ہے، مجرم ثابت کر دینے والے اس معاشرے میں وہ خود کو offender رہنے نہیں دیتی۔ وہ Achiever ہے۔۔۔
وہ کسی بھیانک فیز میں جانے کی بجائے اپنی زندگی کو ذہانت اور دیانتداری سے کامیابی کے اس آسمان پر لے جاتی ہے، جہاں دیکھنے والوں کے سروں سے پگڑی کا گرنا لازم ہو جاتا ہے۔
مگر سمجھنا یہ ہے کہ وہ یہ سب کیسے کرتی ہے؟؟؟
▪️چائلڈ ابیوز کے علاوہ چند دوسرے بہت اہم موضوعات بھی شامل ہیں جیسے طبقاتی فرق، طاقت کا غلط استعمال، جذباتی فیصلے، بروکن فیملی میں پرورش پانے والے بچوں کی نفسیات، انکے اندر پنپنے والے خوف اور لاحاصل خواہشات۔ خاص طور پر بچوں کی نفسیات سے متعلق بہترین وضاحتیں پیش کی گئیں ہیں۔۔
▪️چڑیا کے پسندیدہ کھیل شطرنج کو اس ناول میں استعاراتی طور پر استعمال کیا گیا ہے، عمیرہ احمد نے ناول کا خاکہ کچھ یوں تیار کیا ہے کہ کہانی کی بساط پر تمام کردار شطرنج کے مہرے ہی محسوس ہوتے ہیں، ناول میں knights, bishops اور horse کی چالیں پڑھنے کو ملی، تو وہیں ثابت کر دیا گیا کہ شطرنج کی بساط پر طاقتور مہرے “بادشاہ” کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ مگر کوئین کمزور نہیں ہوتی، وہ زیادہ طاقتور ہے، اسکی طاقت لامحدود ہے۔ وہ بادشاہ کو شہ مات سے بچانے کے لئے ہر چال چل سکتی ہے اور عکس کہانی میں کوئین نے ایسا ہی کیا۔۔۔
▪️ناول میں آسیب زدہ گھر کا ذکر ہے۔ یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ کہانی واضح ہونے کے بعد آپ جان پائیں گے کہ اصل آسیب تو خوبصورت چہروں کے پیچھے چھپا انسان ہوتا ہے۔ اصل خوف تو انسان سے ہونا چاہئے جو آپ کو خوفزدہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ وہ ہمارے سامنے رہتے ہوئے پل پل روپ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔
▪️شہربانو کا کردار کچھ اسباق لئے ہوئے تھا۔ وہ غیریقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے والی بروکن فیملی کی پروردہ ایک بزدل اور جذباتی لڑکی ہے، شہربانو کے خوف کی وجہ اسکے باپ کی بزدلی تھی۔ شیردل کا اعتماد و ساتھ بھی اسے اس کیفیت سے باہر نہیں نکال سکا اور وہ اپنے ہی ہاتھوں حالات کو خراب تر کرتی چلی گئی۔۔
عکس کی طاقت اور ہمت نانا خیر دین کا مضبوط اور خوبصورت کردار تھا۔۔ جس نے اسے مشکل ترین حالات میں بھی تنہا رہنے نہیں دیا۔ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ “عورت” کی سب سے بڑی طاقت اسکے گھر کے “مرد” ہوتے ہیں۔۔
شیردل کا کردار، عکس کے لئے اسکی پرواہ، دونوں کا آپسی تعلق اور انکے برجستہ جملے ناول کا ایک بہت خوبصورت حصہ ہیں۔۔۔
▪️یہ ایک Must Have کتاب ہے، بہتر ہے اس ناول کو کتابی شکل میں پڑھیں۔ ٹھہر کر پڑھیں۔ Skip Reading سے گریز کریں۔۔
ایک اہم بات: اگر کسی کو لگتا ہے کہ عکس ناول کی پزل کہانی کا آخری ٹکڑا، آخری منظر شیردل کو بھیجے “عکس” کا پیغام “My clan”۔ ہے تو آپ غلط ہے۔ دو کرداروں کے مابین Cheval Mirror کے بارے میں ہونے والی ایک بہت خوبصورت گفتگو اس پزل کا آخری ٹکڑا ہے۔
(یہ ایک ہنٹ ہے)
اب آپ خود پڑھیں اور اس پزل کہانی کو حل کریں۔
#review_by_rabeya
Novel Description ✨ ناول: “میڈا کملا ڈھولا”✍️مصنفہ: میمُونہ خورشید علی📘 شُعاع ڈائجسٹ – مارچ 2007…
Novel Description 📖 ناول کا نام: تُو میری مانگ کا تارا✍️ مصنفہ: مصباح علی📚 ماہنامہ:…
Novel Description 📖 ناول کا نام: رو اور روش ✍️ مصنفہ: آسیہ رئیس خان📚 شائع…
Novel Description 📖 ناول کا نام: ہم کیسے دیوانے تھے✍️ مصنفہ: عفت سحر طاہر🗞️ اشاعت:…